منامہ ۔/جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ اور ڈیموکریٹک پروگریسو آزاد پارٹی کے سربراہ غلام نبی آزاد نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے شروع کیا گیا "آپریشن سندور” پاکستانی عوام کے خلاف نہیں بلکہ دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے تھا۔ انہوں نے یہ بات بحرین میں ایک آل پارٹی وفد کے اجلاس کے دوران کہی، جس کی قیادت بی جے پی کے رکن پارلیمان بیجے انت جے پانڈا کر رہے تھے۔ آزاد نے مزید کہا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی تعداد شاید دنیا کے باقی تمام ممالک میں موجود دہشت گردوں سے زیادہ ہے۔ انہوں نے بحرین میں مختلف مذاہب کے لوگوں کے پرامن بقائے باہمی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں بھی مختلف مذاہب کے لوگ متحد ہو کر رہتے ہیں، جو کہ پاکستان کے برعکس ہے جہاں مذہب کی بنیاد پر تقسیم ہوئی۔ بھارتی حکومت نے واضح کیا ہے کہ "آپریشن سندور” کے دوران کوئی پاکستانی شہری، اقتصادی یا فوجی تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ اس آپریشن کا مقصد صرف دہشت گردی کے مراکز کو تباہ کرنا تھا، جو کہ پاہلگام حملے کے بعد ایک ضروری اقدام تھا۔ یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے، اور بھارت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ آزاد کے مطابق، بھارت کی کارروائیاں دہشت گردی کے خلاف ہیں اور پاکستانی عوام کے خلاف نہیں۔ بحرین میں موجود آل پارٹی وفد نے بھارت کی دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے مختلف ملاقاتیں کیں۔ اس دوران، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے رہنما اسد الدین اویسی نے بھی پاکستان کو "جارح” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے، نہ کہ اس کا شکار ہے۔ بھارتی حکومت نے عالمی برادری کو یقین دلایا ہے کہ "آپریشن سندور” اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ہدایات کے مطابق دہشت گردوں کو سزا دینے کے لیے کیا گیا، اور اس کا مقصد خطے میں امن و استحکام قائم کرنا ہے۔














