نگھبھج (گجرات)/وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے جمعہ کو گجرات کے بھوج ایئر فورس اسٹیشن پر فضائی جنگجوؤں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کی جنگ صرف سلامتی کا معاملہ نہیں ہے، یہ اب قومی دفاعی نظریے کا حصہ بن چکا ہے، اور ہم اس ہائبرڈ اور پراکسی جنگ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ موجودہ جنگ بندی کا مطلب یہ ہے کہ بھارت نے اپنے رویے کی بنیاد پر پاکستان کو پروبیشن پر رکھا ہوا ہے۔ اگر رویے میں بہتری آتی ہے، تو یہ ٹھیک ہے؛ لیکن اگر کوئی گڑبڑ ہوئی تو سخت ترین سزا دی جائے گی۔ وزیر دفاع نے واضح کیا کہ آپریشن سندور ابھی ختم نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اقدامات صرف ایک ٹریلر تھے، اگر ضرورت پڑی تو ہم پوری تصویر دکھائیں گے۔ ‘دہشت گردی پر حملہ کرنا اور اسے ختم کرنائے ہندوستان کا نیا معمول ہے۔ یہ بتاتے ہوئے کہ پاکستان نے ہندوستان کے ذریعہ تباہ شدہ اپنے دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو دوبارہ تعمیر کرنا شروع کر دیا ہے راجناتھ سنگھ نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے مطالبہ کیا کہ وہ اسلام آباد کو دی جانے والی ایک بلین ڈالر کی امداد پر نظر ثانی کرے اور مستقبل میں بھی کوئی مدد فراہم کرنے سے گریز کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے شہریوں سے جمع کیے گئے ٹیکس کو جیش محمد دہشت گرد تنظیم کے سربراہ مسعود اظہر کو تقریباً 14 کروڑ روپے دینے کے لیے خرچ کرے گا، حالانکہ وہ اقوام متحدہ کی طرف سے نامزد دہشت گرد ہے۔ حکومت پاکستان نے لشکر طیبہ اور جیش محمد کے دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو کے لیے مالی امداد کا اعلان بھی کیا ہے اور مرید پور میں واقع ہے۔














