بیشتر علاقوں میں اسکول اور کالج دوبارہ کھل گئے
8سرحدی اضلاع میںتعلیمی ادارے تاحال بند،آج کشمیریونیورسٹی بھی کھل جائے گی
سری نگر/بھارت اور پاکستان کے مابین10مئی کوطے پائے گئے جنگ بندی معاہدے پر دونوں ملکوں کے ڈی جی ایم اوﺅزکی جانب سے عمل درآمد جاری رکھے جانے کااعادہ کئے جانے کے بعد وادی کشمیراورجموں صوبہ کے بیشتر علاقوں میں منگل13مئی کو اسکول اور کالج دوبارہ کھل گئے۔ تاہم، سرحدی علاقوں میں سیکورٹی خدشات کے پیش نظر تعلیمی ادارے تاحال بند رکھے گئے ہیں۔ حکام کے مطابق، تعلیمی سرگرمیوں کی جزوی بحالی کا فیصلہ لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد کے قریبی علاقوں میں سیکورٹی جائزے کے بعد لیا گیا ہے۔جے کے این ایس کے مطابق حکام نے کہاکہ سرحدوں پر صورتحال بہترہونے کے بعد2سرحدی اضلاع بارہمولہ وکپوارہ وایک سرحدی علاقے گریز بانڈی پورہ کے بغیر کشمیر میں تمام اسکول اور کالج منگل کو دوبارہ کھل گئے ۔انہوں نے کہا کہ کپواڑہ اور بارہمولہ اضلاع اور بانڈی پورہ کے گریز سیکٹر کے تعلیمی ادارے فی الحال بند رہیں گے۔انہوںنے کہاکہ صوبہ جموں کے راجوری، پونچھ، سانبہ، کٹھوعہ اور جموں اضلاع سمیت کشمیر کے کپوارہ، بارہمولہ اور بانڈی پورہ (گریز) جیسے سرحدی علاقوں میں تعلیمی ادارے منگل کو بھی بند رہے۔ سرینگر سمیت کئی دیگر اضلاع کی سڑکوں پر منگل کی صبح اسکول گاڑیاں رواں دیواں نظر آئیں۔ نجی و سرکاری اسکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں لوٹ آنے سے اسکولوں کی رونق بحال ہو گئی۔ طلبہ سمیت اساتذہ خوش اور پر جوش نظر آ رہے تھے۔ادھر کالجوںمیں بھی منگل کو درس وتدریس کا عمل بحال ہوگیا۔اُدھر، کشمیر یونیورسٹی اور کلسٹر یونیورسٹی نے بھی تعلیمی سرگرمیاں بحال کرنے کے اعلان کے ساتھ ہی سرحدی کشیدگی کے باعث ملتوی ہوئے امتحانات کے لئے نئی تاریخوں کا جلد اعلان کرنے کی یقین دہانی کی ہے۔حکام کے مطابق کشمیر یونیورسٹی بدھ14مئی کو دوبارہ کلاسز شروع کرے گی۔کشمیر یونیورسٹی نے پیر کو اعلان کیا کہ اس کے تمام کیمپس میں 14 مئی بروز بدھ سے باقاعدہ کلاس ورک دوبارہ شروع ہو جائے گا۔یونیورسٹی کی طرف سے ایک باضابطہ مواصلت میں کہا گیا ہے کہ اس کے ذریعے تمام متعلقہ افراد کی اطلاع کے لیے مطلع کیا جاتا ہے کہ یونیورسٹی کے تمام کیمپسوں میں باقاعدہ کلاس ورک بدھ،14 مئی 2025 سے دوبارہ شروع ہو جائے گا۔تاہم، جموں اور کشمیر کے سرحدی علاقوں میں رہنے والے اور یونین ٹیریٹری سے باہر کے طلباءکو پیر، 19 مئی، 2025 سے شامل ہونے کی اجازت دی گئی ہے۔یونیورسٹی نے تمام متعلقہ طلباءاور فیکلٹی کو مشورہ دیا کہ وہ شیڈول کو نوٹ کریں اور تعلیمی سرگرمیوں کی بروقت بحالی کو یقینی بنائیں۔














