یہ فیصلہ اگر کچھ دن پہلے لیا گیا ہوتا تو کئی جانیں بچ سکتی تھیں۔ عمر عبداللہ
سرینگر/جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہندوپاک کے مابین جنگ بندی کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ کاش یہ فیصلہ چند دن پہلے لیا گیا ہوتا تو قیمتی جانوں کے زیاں سے بچا جاسکتا تھا ۔ انہوںنے کہا کہ یہ جموں کشمیر حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ نقصان کا جائزہ لیں اور زخمیوں کے علاج کےلئے اقدامات اُٹھائیں ۔ انہوںنے بتایا کہ سرکار متاثرین کو ہر ممکن مدد کرے گی اور سرکاری سکیم کے تحت انہیں ریلیف فراہم کیا جائے گا ۔ وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ جموں کشمیر کے تمام اضلاع میں ضلع کمشنروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ جہاں نقصان ہوا ہے کا تخمینہ لگائیں تاکہ متاثرین کو امداف فراہم کی جائیں ۔ انہوںنے اس بات کی امید ظاہر کی ہے کہ سرینگر ائر پورٹ سے جلد پروازیں بحال ہوں گی ۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے مزید کہا کہ جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہوتا ہے اور اس میں قیمتی جانوں کا زیاں ہوتا ہے ۔ انہوںنے بتایا کہ گولہ باری کے نتیجے میں جموں کشمیر میں جو افراد جاں بحق ہوئے ہیں میں ذاتی طور پر ان سے ہمدردی اور یکجہتی کااظہار کرتا ہوں اور سرکار متاثرین کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کےلئے پرعزم ہے ۔ واضح رہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے مابین جنگی صورتحال کے نتیجے میں جموں اور کشمیر میں متعدد جانیں چلی گئیں جبکہ اوڑی، ٹنگڈار، راجوری اور دیگر علاقوں میں شدید نقصان پہنچا ہے ۔












