بہت جلدوزارت داخلہ کو پیش کئے جانے کاامکان
حملہ آوروں کو پاکستان کی خفیہ ایجنسی (ISI) اور پاکستانی فوج کی معاونت کاانکشاف
مشتبہOGWSکی فہرست تیار،جموں میں قید 2دہشت گردوں سے بھی پوچھ تاچھ
سری نگر/اسبات کا انکشاف ہواہے کہ قومی تحقیقاتی ایجنسی / بہت جلد سیاحتی مقام پہلگام کی بائسرن چراگاہ میں22 اپریل کو ہوئے دہشت گرد حملے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزارت داخلہ کو پیش کرنے والی ہے۔حکام نے ہفتے کو اس کی تصدیق کی اورکہاکہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق، حملے میں پاکستان کی ممنوعہ تنظیم لشکرِ طیبہ کےساتھ ساتھ پاکستان کی خفیہ ایجنسی (ISI) اور پاکستانی فوج کی معاونت شامل تھی۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق قومی تحقیقاتی ایجنسی (NIA) کے ڈائریکٹر جنرل سدانند داتے کی براہِ راست نگرانی میں تیار کی گئی ابتدائی مگرجامع تحقیقاتی رپورٹ میں تقریباً 150 گواہوں کے بیانات، جائے وقوعہ کی 3D ری تخلیق، اور استعمال شدہ کارتوسوں کی بیلسٹک جانچ شامل ہے۔ایک میڈیا رپورٹ میں ایک سینئر افسر (نام ظاہر نہیں)کاحوالہ دیتے ہوئے بتایاگیاہے کہ پہلگام کایہ حملہ مکمل منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا تھا جس میں سرحد پار سے تعاون حاصل تھا۔انہوںنے مزیدکہاکہ بیتاب ویلی (جو پہلگام میں ہی ہے) میں اسلحہ پہلے سے پہنچا دیا گیا تھا، اور مقامی اوور گراونڈ ورکرز (OGWs) نے حملہ آوروں کو پناہ، نگرانی اور لاجسٹک مدد فراہم کی۔مذکورہ فسر کے مطابق، حملہ آور کارروائی کے دوران پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں اپنے ہینڈلرز سے رابطے میں تھے اور اب بھی جنوبی کشمیر کے کچھ علاقوں میں سرگرم ہو سکتے ہیں۔ادھر پہلگام حملے کے بعد قومی تحقیقاتی ایجنسی (NIA) نے مشتبہ اوور گراو نڈ ورکرز کی فہرست تیار کر لی ہے، اور ان کےخلاف قانونی و انتظامی کارروائی کی تیاری جاری ہے۔ NIA کے ڈائریکٹر جنرل سدانند داتے نے حال ہی میں جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور تفتیش میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق کئی این آئی اے ٹیمیں اب بھی جائے وقوعہ پر شواہد جمع کرنے اور عینی شاہدین سے تفتیش میں مصروف ہیں۔رپورٹ میں مزید بتایاگیاہے کہ این آئی اے کی ایک سینئر ٹیم، جس کی قیادت ایک انسپکٹر جنرل کر رہے ہیں، پہلگام میں تعینات ہے اور جموں و کشمیر پولیس کو معاونت فراہم کر رہی ہے۔ تفتیش کی نگرانی ڈپٹی انسپکٹر جنرل اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس بھی کر رہے ہیں۔ واقعات کی مکمل تفصیلات جاننے کےلئے، قومی تحقیقاتی ایجنسی (NIA) نے ملک کے مختلف علاقوں میں ٹیمیں بھیج کر حملے میں بچ جانے والے افراد کے بیانات قلم بند کئے۔ ان میں سے کئی گھوڑے بان شامل ہیں جو جائے وقوعہ پر موجود تھے، جبکہ ایک فوٹوگرافر کو کلیدی گواہ سمجھا جا رہا ہے۔جموں و کشمیر پولیس نے حملے میں ملوث 3 مشتبہ افراد کی شناخت اور خاکے جاری کیے ہیں،جن میں2پاکستانی شہری علی بھائی المعروف طلحہ بھائی، ہاشم موسیٰ عرف سلیمان جبکہ تیسرا ایک مقامی، اننت ناگ کا عادل حسین ٹھوکر، یہ سبھی لشکرِ طیبہ سے وابستہ ہیں۔حکام کے مطابق، وادی بھر میں 2ہزار سے زائد افراد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔ پولیس نے حملہ آوروں کے بارے میں اطلاع دینے پر20 لاکھ روپے انعام کا اعلان بھی کیا ہے۔حملے کی ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ ملوث دہشت گردوں کی تعداد5سے 7 تک ہو سکتی ہے۔دریں اثناءپہلگام دہشت گردانہ حملے کی تحقیقات کے سلسلے میں این آئی اے نے جموں میں قید 2دہشت گردوں سے پوچھ گچھ کی۔














