نئی دہلی۔ہنر مندی کی ترقی اور انٹرپرینیورشپ کی وزارت (ایم ایس ڈی ای( حکومت ہند نے ، 28 اپریل 2025 کو کوشل بھون، نئی دہلی میں ایک اہم دور کی بات چیت کے لیے ایک اعلیٰ سطحی مصری وفد کی میزبانی کی جس کی قیادت نائب وزیر تکنیکی تعلیم عزت مآب پروفیسر ڈاکٹر ایمن بہاء الدین نے کی ۔ یہ بات چیت ہندوستان-مصر کے مضبوط دیرینہ تعلقات میں ایک اور سنگ میل کی نشان دہی کرتی ہے، حال ہی میں وزیر اعظم جناب نریندر مودی کو مصر کے اعلیٰ ترین شہری اعزاز سے نوازے جانے سے 2023 میں شروع کئے گئے دوطرفہ تعلقات کے عمل کو ایک کلیدی شراکت داری کی بلندی پر لے جانے کے لئے رفتار فراہم کرتی ہے۔جناب اتل کمار تیواری، سکریٹری، ایم ایس ڈی ای نے دونوں ملکوں کے درمیان پائیدار عوام سے عوام اور ادارہ جاتی روابط پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اسکل انڈیا مشن کے ذریعے’’اسکل کیپٹل آف دی ورلڈ‘‘ بننے کے ہندوستان کے وژن پر زور دیا، جس کے تحت پہلے ہی تقریباً 400,000 افراد کو مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور بڑے ڈیٹا جیسے جدید شعبوں میں تربیت دی جا چکی ہے، جبکہ 1.3 ملین سے زیادہ کاروباریوں کی صلاحیت سازی کی جارہی ہے۔اپنے پیشہ ورانہ تعلیم اور تربیت (ٹی وی ای ٹی) ماحولیاتی نظام کو عالمی معیارات کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی ہندوستان کی کوششوں اور عالمی سطح کے اسکل انڈیا انٹرنیشنل سینٹرز کے قیام کو بین الاقوامی تعاون کے نمونے کے طور پر پیش کیا گیا۔مصری وفد نے ای یو کے تعاون یافتہ ٹی وی ای ٹی مصر اصلاحاتی پروگرام اور سیکٹر اسکل کونسلز کے قیام سمیت مصر کی جامع ٹی وی ای ٹی اصلاحات کے بارے میں معلومات مشترک کیں جو ہندوستان کے قابل توسیع اور قابل استطاعت ہنر مندی کے ماڈلز کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔ دونوں فریقوں نے جاری تعاون کی کامیابی کو تسلیم کیا، جس میں بھارت کے این آئی ای ایل آئی ٹی اور مصر کے انفارمیشن ٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ کے درمیان 2024 کے مفاہمت نامے، ایمیٹی یونیورسٹی کے ساتھ السویدی گروپ کی شراکت داری، اور قاہرہ میں ہندوستانی تعاون یافتہ پیشہ ورانہ تربیتی مرکز شامل ہیں۔دونوں ممالک نے مستقبل کے تناظر میں آئندہ تعاون کے لیے کئی امید افزا راستوں کی نشاندہی کی۔ ان میں مشترکہ سرٹیفیکیشن پروگرام، فیکلٹی اور طلباء کے تبادلے، ڈیجیٹل ہنر مندی اور انٹرپرینیورشپ کے اقدامات اور ترجیحی شعبوں جیسے انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، سیاحت اور سبز مہارتوں میں سنٹرز آف ایکسی لینس کا قیام شامل ہے۔ دونوں وفود نے عالمی سطح پر مسابقتی، مستقبل کے لیے تیار افرادی قوت بنانے اور اپنی شراکت داری کو وسیع تر جنوبی جنوب تعاون کے سانچے کے طور پر استعمال کرنے کے لیے مشترکہ عزم کا اظہار کیا۔













