جاری ایمنسٹی اسکیم کے تحت 2لاکھ75ہزار81بجلی صارفین کی رجسٹریشن:حکومت
سری نگر/ جموں وکشمیر حکومت نے جمعرات کو ”سرکاری محکمے،صنعتی یونٹ ،نیم سرکاری تنظیمیں اور دیگر نجی ادارے ، محکمہ پاور ڈیولپمنٹ کی مالی مشکلات کی بنیادی وجہ بنے ہوئے ہیں کیونکہ ایسے 100سرفہرست بجلی کے نادہندگانPDD کے1000 کروڑروپے کے مقروض ہیں۔جے کے این ایس کے مطابق جموں میں جاری بجٹ اجلا س کے دسویں روز حکومت نے قانون ساز اسمبلی کو آگاہ کیاکہ سرکاری محکموں، صنعتی یونٹوں، نیم سرکاری تنظیموں اور پرائیویٹ اداروں پر بجلی کے واجبات کی مد میں محکمہ پاور ڈیولپمنٹ کے کروڑوں روپے واجب الادا ہیں۔ممبراسمبلی لنگیٹ شیخ خورشید کے ایک سوال کے جواب میں، حکومت نے چونکا دینے والے اعداد و شمار کا انکشاف کیا، نادہندگان اجتماعی طور پر بل چلا رہے ہیں جس نے پاور سیکٹر پر بڑے پیمانے پر دباو ¿ ڈالا ہے۔حکومت نے مزید بتایاکہ سب سے بڑے نادہندگان میں، بابا جنگ63.78 کروڑ روپے کے بقایا بل کےساتھ فہرست میں سرفہرست ہے، اس کے بعد چیف انجینئر سلال ہائیڈرو الیکٹرک این ایچ پی سی 59.96 کروڑ روپے ہے۔ XENپی ایچ ای سوپور پر 45.84 کروڑ روپے واجب الادا ہیں، جبکہ چیف مائننگ انجینئر جے اینڈ کے منرلز لمیٹڈ پر 42.43 کروڑ روپے واجب الادا ہیں۔دیگر قابل ذکربجلی نادہندگان میں، 39.83کروڑروپے واجب الاداکیساتھ راجپورہ لفٹ اری گیشن اے ڈبلیو پی اسٹیج1 اور 2 ، ایگزیکٹو انجینئر پی ایچ ای مکینیکل ڈویڑن سوپور 26.87 کروڑ روپے، واٹر سپلائی اسکیم ٹنگڈار 24.10کروڑ روپے، منیجر جموں اینڈ کشمیر سیمنٹ لمیٹڈ 22.49 کروڑ روپے، لیفٹ اری گیشن اسکیم لیتھ پورہ21.97 کروڑ روپے، ایگزیکٹو انجینئر پی ایچ ای مکینیکل ڈویڑن سوپور ( PR-96) 21.41کروڑ روپے اور حکومت سے منسلک ادارے، جیسے میونسپل کونسل، آبپاشی کے محکمے، اور پولیس لائنز بھی اس فہرست میں نمایاں طور پر شامل ہیں۔جموں و کشمیر حکومت نے100 سب سے بڑے یا سرفہرست بجلی کے نادہندگان کی شناخت ظاہر کی ہے، جن میں سرکاری محکمے، پبلک سیکٹر یونٹس، اور نجی ادارے شامل ہیں، جن پر مجموعی طور پر1000 کروڑ سے زیادہ کا واجب الادا بل شامل ہیں۔اس دوران حکومت نے کہاکہ ایمنسٹی اسکیم، جو صارفین کو جرمانے معاف کرکے ان کے واجبات کی ادائیگی میں مدد کرنے کےلئے بنائی گئی ہے، پہلے ہی 2لاکھ75ہزار81بجلی صارفین کو اپنی طرف متوجہ کر چکی ہے، جن میں سے ایک لاکھ 60ہزار507 جموں صوبے اور ایک لاکھ 14ہزار 574 کشمیر سے ہیں۔ تاہم، مستفید ہونے والوں کی مکمل فہرست، جس کےلئے تقریباً10ہزار صفحات کے ریکارڈ کی ضرورت ہوگی، بڑی حد تک دستیاب نہیں ہے۔ ممبراسمبلی شیخ خورشید نے زیادہ سے زیادہ احتساب کا مطالبہ کیا ہے، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ عوامی فنڈز کو ضائع نہیں کیا جانا چاہیے اور نادہندگان، خاص طور پر سرکاری اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ مالی استحکام اور بجلی کی عدم فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اپنے واجبات ادا کریں۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومتی اداروں کی جانب سے بار بار ڈیفالٹ کرنے سے نظام پر عوام کا اعتماد ختم ہو رہا ہے۔














