کٹھوعہ میں جاری تشویش میں اضافہ
محمد دین اور رحمان علی کی تلاش شروع:حکام
سری نگر/ اس چونکا دینے والے واقعے کے بعد جہاں ایک نوعمر لڑکے سمیت3 نوجوانوں کی لاشیں سیکورٹی فورسز کو لاپتہ ہونے کے کئی دن بعد ملی تھیں، وہیں کٹھوعہ میں مزید2 نوجوان لاپتہ ہوگئے جس سے علاقے میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ جے کے این ایس کے مطابق نجی نیوز چینل انڈیا ٹوڈے نے خبر دی ہے کہ لاپتہ نوجوان، جن کی شناخت محمد دین اور رحمان علی کے نام سے ہوئی ہے، کو آخری بار راج باغ کے علاقے میں دیکھا گیا تھا۔حکام نے مقدمہ درج کر کے ان کی تلاش کےلئے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔تین شہری 15سالہ ورن سنگھ ولد چمیل سنگھ ساکن ڈھوٹا ، 32سالہ یوگیش سنگھ ولد شوری لال اور 40سالہ درشن سنگھ ساکنان مرہون 5 مارچ کو لوہائی ملہار میں ایک شادی میں جاتے ہوئے لاپتہ ہو گئے تھے۔ وہ لاپتہ ہونے کے2دن بعد کٹھوعہ کے بلاور علاقے میںایک جھرنے کے قریب مردہ پائے گئے۔ یہ لاشیں ہفتے کے روز ملی تھیں۔ ان ہلاکتوں کی تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے، جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ،ملی ٹنٹوںنے کی تھی۔اس واقعہ سے اسمبلی میں ہنگامہ برپا ہوگیا۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ان ہلاکتوں کو ’وحشیانہ‘ قرار دیا۔تین شہریوں کی ہلاکت کے خلاف اتوار کو بلاور اور ملحقہ علاقوں میں مکمل ہڑتال کی گئی۔ اس کے علاوہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ہلاکتوں کی مکمل جانچ کا حکم دیا ہے۔













