سرینگر/ جموں کشمیر میں بجٹ سے قبل مشاورت کا سلسلہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے جمعرات کو بھی جاری رہا۔ جس دوران وزیر اعلیٰ نے بجٹ سے قبل مختلف عوامی نمائندوں کے ساتھ بات چیت کی اور مشاورت کےلئے میٹنگ کی صدارت کی ۔ اس میٹنگ م یں متعلقین نے بجٹ سے متعلق اپنی آراءو تجاویز پیش کیں۔ اس مشق کے ایک حصے کے طور پر وزیر اعلیٰ نے بارہمولہ، ادھم پور، کولگام اور رام بن اضلاع سے تعلق رکھنے والے ضلع ترقیاتی کونسل (ڈی ڈی سی) کے چیئرپرسنز اور ممبران قانون ساز اسمبلی (ایم ایل اے) کے ساتھ کئی مشاورتی میٹنگیں کیں۔شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے، وزیر اعلیٰ نے بجٹ سازی کے جامع عمل کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔ آنے والی سیشن کے دوران جموں کشمیر سرکار کی جانب سے اسمبلی میں بجٹ پیش کرے گی تاہم اس کو سرکار نے متعلقین سے صلاح و مشورہ کےلئے پیش رکھا تاکہ اس معاملے میں سبھی نمائندوں کی رائے طلب کی جاسکے ۔ وزیر اعلیٰ نے اس ضمن میں بتایا کہ ہمارا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ عوامی نمائندوں بشمول ڈی ڈی سی چیئرپرسنز اور ایم ایل ایز کی تجاویز پر غور کیا جائے اور ان کی ضروریات اور خواہشات بجٹ میں جھلکیں۔انہوں نے مزید روشنی ڈالی کہ اس طرح کے مشورے زمینی حقائق کی واضح تصویر فراہم کرتے ہیں، حکومت کو ایسی پالیسیاں بنانے کے قابل بناتے ہیں جو عوامی خدشات کو مو¿ثر طریقے سے حل کرتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بات چیت نہ صرف ہمیں قلیل مدتی بجٹ کی منصوبہ بندی میں مدد فراہم کرے گی بلکہ طویل مدتی پالیسی کی تشکیل میں بھی مدد کرے گی، اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ گورننس کی ترجیحات لوگوں کی ضروریات کے مطابق ہوں۔میٹنگ کے دوران متعلقہ اضلاع کے ڈی ڈی سی چیئرپرسنز اور ایم ایل ایز نے اپنے ترجیحی مطالبات پیش کئے۔ شرکاءنے سڑکوں، صحت کے بنیادی ڈھانچے، بجلی کی فراہمی کے بنیادی ڈھانچے، دیہی ترقی، پانی کی فراہمی، تعلیم، کھیلوں کی سہولیات، بھرتی، آبپاشی اور سیلاب کنٹرول اور مویشی پالن سے متعلق اہم مسائل اور مطالبات کو اٹھایا۔شہری ترقی، جنگلات کی منظوری، منشیات کی لعنت، سیاحت کے فروغ، سالڈ لیکوڈ ویسٹ مینجمنٹ، پارکنگ کی سہولیات اور نئے ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں بھی بات چیت کی گئی۔ایم ایل ایز نے اے ایم آر یو ٹی ۔2.0کے تحت اہم شہروں میں واٹر سپلائی اسکیموں کے موثر نفاذ کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کاموں کی ٹینڈرنگ میں مسائل کو حل کرنے پر زور دیا تاکہ جے جے ایم کے تحت فنڈز کا استعمال کیا جاسکے۔ دیگر مسائل اور مطالبات کے علاوہ پاور انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، ہسپتالوں اور پی ایچ سیز کو کریٹیکل سٹاف کی فراہمی، سکولوں میں تعمیراتی انفراسٹرکچر کا فزیکل آڈٹ، ولر لیک کنزرویشن، فلڈ پروٹیکشن ورکس، دیہی علاقوں میں فائر سروس سٹیشنز کا قیام، ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز کی بھیڑ بھاڑ میں کمی، پارکنگ کی سہولیات اور ضلع میں منی سیکریٹ بلڈنگز کی تعمیر شامل ہیں۔اجلاس میں ذاتی طور پر اور عملی طور پر ڈی ایچ پورہ کی نمائندگی کرنے والی وزراءسکینہ ایتو، رفیع آباد اسمبلی حلقہ کی نمائندگی کرنے والے جاوید احمد ڈار اور وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی نے شرکت کی۔اس موقع پر چیف منسٹر کے ایڈیشنل چیف سکریٹری دھیرج گپتا، پرنسپل سکریٹری فینانس سنتوش ڈی ویدیا، ڈائرکٹر جنرل بجٹ، ڈائرکٹر جنرل ایکسپینڈیچر ڈویژن کے علاوہ متعلقہ اضلاع کے ایم ایل ایز، ڈی ڈی سی چیرپرسن اور ڈپٹی کمشنر بھی موجود تھے۔وزیراعلیٰ نے عوامی نمائندوں کی تجاویز اور بصیرت پر ان کا شکریہ ادا کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ان میٹنگز کا بنیادی مقصد ان کے قیمتی ان پٹ کو شامل کرکے اور ان کے تاثرات سن کر عوام پر مبنی بجٹ مرتب کرنا ہے۔کل، جاری مشاورت کے ایک حصے کے طور پر، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اننت ناگ، کٹھوعہ، سانبہ اور بڈگام اضلاع کے عوامی نمائندوں کے ساتھ اسی طرح کی میٹنگیں کی تھیں جن میں مختلف ترقیاتی پروجیکٹوں کے مطالبات اور بجٹ کی ضروریات پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔














