نوجوانوں کی بھرپور شرکت اور شاندار کارکردگی
سرینگر، 12 جنوری 2025: 5ویں جموں و کشمیر اسٹیٹ آرم ریسلنگ چیمپئن شپ دو دنوں تک جاری رہنے کے بعد کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی، جس میں 300 سے زائد شرکاء نے 40 مختلف زمروں میں حصہ لیا۔ یہ ایونٹ جموں و کشمیر آرم ریسلنگ ایسوسی ایشن نے پیپلز آرم ریسلنگ فیڈریشن انڈیا کے زیر اہتمام منعقد کیا، جس میں سب جونئیر، جونئیر، یوتھ، سینئر اور پیرا ایتھلیٹس کی کیٹیگریز میں مرد و خواتین کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔چیمپئن شپ کے دوران اہم کامیابیاں حاصل ہوئیں، جن میں تاجمل بلال کو یوتھ کیٹیگری میں، ابو اکرم کو سینئر اور جونئیر کیٹیگری میں چیمپئن کے طور پر اعزاز حاصل ہوا۔ اس ایونٹ کی ایک خاص بات یہ رہی کہ اس میں 10 پیرا ایتھلیٹس اور 15 خواتین کھلاڑیوں نے بھی حصہ لیا، جو کہ کھیل کی بڑھتی ہوئی شمولیت اور مقبولیت کو ظاہر کرتا ہے۔چیمپئن شپ نے آئندہ قومی آرم ریسلنگ چیمپئن شپ کے لیے ایک اہم کوالیفائر کا کام کیا، جس میں ہر کیٹیگری میں ٹاپ دو میڈل جیتنے والے کھلاڑی قومی سطح پر مقابلہ کرنے کے لیے منتخب ہو گئے ہیں، جو کہ چند ماہ میں منعقد کی جائے گی۔پی اے ایف آئی کی صدر مس پریتی جھانگیانی اور پرو پانجا لیگ کے شریک بانی مسٹ پروین داباس اختتامی تقریب میں شریک ہوئے اور جموں و کشمیر میں آرم ریسلنگ کیلئے موجود بے شمار ٹیلنٹ کی تعریف کی۔ انہوں نے کھیل کے اس پلیٹ فارم کو نوجوانوں کو سماجی برائیوں جیسے منشیات سے دور رکھنے کے لیے اہم قرار دیا۔”آرم ریسلنگ ایک مقامی بھارتی کھیل ہے، اور یہ نوجوان ایتھلیٹس کو مرکوز رہنے اور منفی اثرات سے بچنے میں مدد دیتا ہے۔ کشمیر میں بے پناہ ٹیلنٹ ہے اور آرم ریسلنگ اس علاقے کی کھیلوں میں صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہاں کے ایتھلیٹس شاندار طاقت، مہارت اور عزم کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ نوجوانوں میں اتنی لگن ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ اس طرح کے ایونٹس نوجوانوں میں نظم و ضبط کو فروغ دیں گے، اور وہ منفی اثرات سے دور رہیں گے۔ کشمیر کی قدرتی خوبصورتی اور توانائی نہ صرف کھیلوں کے لیے بلکہ فلموں کی شوٹنگ کے لیے بھی ایک بہترین مقام ہے، اور ہم امید کرتے ہیں کہ مستقبل میں اس قسم کے مزید اقدامات ہوں گے۔”مس پریتی جھانگیانی نے کہا”جموں و کشمیر میں آرم ریسلنگ میں موجود ٹیلنٹ واقعی شاندار ہے۔ ہم نے یہاں کچھ زبردست کارکردگی دیکھی، اور یہ واضح ہے کہ اس علاقے کا کھیلوں میں روشن مستقبل ہے۔ آرم ریسلنگ صرف ایک مقابلہ نہیں ہے، بلکہ یہ نوجوان ذہنوں کو مرکوز رکھنے، نظم و ضبط پیدا کرنے اور منفی اثرات جیسے منشیات سے دور رکھنے کا ایک طریقہ ہے۔ میں یہاں کے کھلاڑیوں پر بہت فخر محسوس کرتی ہوں اور مجھے یقین ہے کہ یہ کھلاڑی قومی سطح پر اپنی ایک خاص جگہ بنائیں گے۔ یہ کشمیر کی آرم ریسلنگ کمیونٹی کے لیے صرف آغاز ہے، اور ہم ان کی ترقی کی حمایت کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔” انہوں نے مزید کہا، "کشمیر فلموں کی شوٹنگ کے لیے ایک مثالی مقام ہے، اور بالی ووڈ کو چاہیے کہ وہ باہر کے ممالک کی بجائے کشمیر میں زیادہ شوٹنگ کرے۔”فاروق احمد ڈار، صدر جموں و کشمیر آرم ریسلنگ ایسوسی ایشن نے ایونٹ کی کامیابی پر اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا”اس مقابلے کا بنیادی مقصد نوجوانوں میں تندرستی کو فروغ دینا ہے اور انہیں منشیات اور دیگر سماجی برائیوں سے دور رکھنا ہے۔”اس ایونٹ میں ڈویڑنل اسپورٹس افسرہ نصرت غزالہ، آرم ریسلنگ ایسوسی ایشن کے بانی مشتاق احمد زرگر اور کوچ شوکت احمد نروری بھی موجود تھے، جنہوں نے چیمپئن شپ کی تنظیم اور اس کے مقامی نوجوانوں پر مثبت اثرات کی تعریف کی














