نئی دلی//مرکزی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بدھ کو مالدیپ کے اپنے ہم منصب محمد غسان مامون سے نئی دہلی میں ملاقات کی اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا ۔ بات چیت میں مالدیپ کی قومی دفاعی فورس کو تقویت دینے کے لیے تربیت، مشترکہ مشقوں اور دفاعی ساز و سامان کی فراہمی جیسے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔اکتوبر 2024 میں مالدیپ کے صدر محمد موززو کے ہندوستان کے سرکاری دورے کے دوران اپنی پچھلی ملاقات کو یاد کرتے ہوئے سنگھ نے کہا، ہندوستان مالدیپ کو دفاعی تعاون کے تمام شعبوں بشمول تربیت، باقاعدہ مشقوں، ورکشاپس اور سیمیناروں میں صلاحیت سازی کے مواقع فراہم کرتا رہا ہے۔ مالدیپ کی قومی دفاعی افواج کی صلاحیت میں اضافہ کے ساتھ ساتھ دفاعی ساز و سامان اور اسٹورز کی فراہمی بھی کیجارہی ہے۔ راجناتھ سنگھ نے مزید کہا، "یہ یقینی بنانا ضروری ہوگا کہ ہم اسی رفتار کو جاری رکھیں۔ ہندوستان مالدیپ اور مالدیپ کی قومی دفاعی فورس کو پروجیکٹوں، آلات اور تربیت کے ذریعہ ان کی صلاحیت سازی کی کوششوں میں تعاون جاری رکھے گا۔ ایک بھروسہ مند پارٹنر اور قریبی دوست کے طور پر، میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہندوستان مالدیپ کی ترقی کی ضروریات اور اس کے لوگوں کی فلاح و بہبود پر مدد کرتا رہے گا۔یہ بات چیت مامون کے تین روزہ ہندوستان کے دورے کے ایک حصے کے طور پر ہوئی ہے، جس میں ممبئی میں مزگاں ڈاک شپ بلڈرز لمیٹڈ اور گوا شپ یارڈ کا دورہ بھی شامل ہے۔ اس دورے کا مقصد دفاعی مینوفیکچرنگ اور صلاحیتوں میں مزید تعاون کو تلاش کرنا ہے۔ہندوستان اور مالدیپ کے درمیان طویل عرصے سے مشترکہ روحانی، تاریخی، لسانی اور نسلی تعلقات ہیں۔ وزارت دفاع کے ایک اہلکار نے زور دے کر کہا، "مالدیپ ہندوستان کی ‘ پڑوسی پہلے’ پالیسی میں ایک خاص مقام رکھتا ہے، جس کا مقصد بحر ہند کے علاقے میں استحکام اور خوشحالی لانا ہے۔دونوں ممالک آئی او آر میں حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانے میں اہم کھلاڑی ہیں۔ وہ علاقائی استحکام اور اجتماعی ترقی پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے، خطے میں سبھی کے لیے سلامتی اور ترقی کے ہندوستان کے وژن (SAGAR) میں حصہ ڈالتے ہیں۔سرکاری ذرائع نے نوٹ کیا کہ ہندوستان مالدیپ کی دفاعی اور سیکورٹی ضروریات کو سمجھنے کا خواہاں ہے۔ "یہ دورہ اس بارے میں ہے کہ مالدیپ کیا چاہتا ہے۔ ہم سنیں گے کہ ان کا کیا کہنا ہے اور ان کی توقعات پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے۔












