شالہ ٹینگ ایچ ایم ٹی کراسنگ سے جو ہائی وے نارہ بل کی طرف جاتی ہے وہ حادثات کے حوالے سے انتہائی حساس بن گئی ہے اور اس ہائی وے پر گاڑی یا موٹر سائیکل ،آٹو یا دوسری کسی بھی نوعیت کی گاڑی چلانا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے ۔ایک ہفتے میں اس سڑک پر دو ایسے حادثات رونما ہوئے جو دونوں جان لیوا ثابت ہوئے ۔پہلے حادثے اور دوسرے حادثے میں کوئی خاص فرق نہیں اور عین مشاہدین کا کہنا ہے کہ دونوں حادثات تیز رفتاری کا نتیجہ قرار دئے جاسکتے ہیں ۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیا کہ اس قدر اس روٹ پر تیز رفتاری سے گاڑیاں چلائی جاتی ہیں کہ انسانی جانوں کی کسی کو پروا نہیں ۔سڑک حادثات میں جن لوگوں کے چشم و چراغ گُل ہوتے ہیں وہی اس کی جلن محسوس کرسکتے ہیں لیکن ایسے واقعات پر خاموش بھی نہیں رہا جاسکتاہے ۔اور سب سے پہلے ہماری نظریں اس ڈیپارٹمنٹ کی طرف اٹھی ہیں جس کو وادی میں ٹریفک کی ذمہ داری سونپی گئی ہے ۔جیسا کہ قارئین پہلے ہی اس بات سے واقف ہیں کہ ہمار ا ٹریفک محکمہ سول لائینز ایریا تک ہی سمٹ کر رہ گیا ہے ۔دوسرے علاقوں میں ٹریفک کا کیا حال ہے اس کی محکمے کو کوئی فکر نہیں اور نہ ہی محکمہ اس بارے میں کوئی دلچسپی لیتاہے ۔محکمے میں ملازمین کی فوج ہے ۔ان سے کیا کام لیا جاتاہے اس بارے میں کوئی کچھ نہیں جانتاہے ۔ہاں اگر سول لائینز ایریا میں کسی ڈرائیور سے کوئی بھی بھول چوک ہوجاے تو اس پر بھاری جرمانہ بس صرف یہی کام محکمہ ٹریفک کا رہ گیا ہے ۔اب محکمہ، ٹریفک کنٹرول بھی نہیں کرتاہے ۔ڈل گیٹ کراسنگ پر بھی کوئی اہلکار نہیں ۔چوک بند کردئے گئے اب گاڑیاں چلانے والوں کو یو ٹرن کے لئے دور جانا پڑتا ہے بہرحال لوگ جیسے تیسے یہ سب برداشت کرلیتے ہیں لیکن ایچ ایم ٹی کراسنگ سے نارہ بل تک کیوں شاہراہ کو خونی سڑک کا نام دیا گیاہے کیونکہ مقامی لوگوں کے مطابق اس سڑک پر گاڑیاں اور سکوٹر چلانے والے اس قدر تیز رفتاری کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ ایسا لگتاہے کہ یہ سکوٹر اور گاڑیاں ہوا کے دوش پر چلتی نہین اڑتی ہیں۔اب ان کو صرف سرکاری اہلکار ہی روک ٹوک سکتے ہیں کیونکہ عام لوگوں میں اتنی طاقت نہیں ہوتی ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو صحیح راستہ دکھاتے جو راہ بھٹک گئے ہوتے ہیں لیکن مقامی لوگوں کے مطابق افسوس نہ ٹریفک اہلکار نہ لوکل پولیس اپنی ذمہ داریاں اس معاملے میں خوش اسلوبی سے نبھاتے ہیں۔اگر ایک ہی ہفتے میں اس شاہراہ پر خطرناک حادثات رونما ہوئے تو کم از کم ایک اہلکار کو تو تعینات کیا جانا چاہئے تھالیکن نہیں کیا گیا ہے ۔لوگ ٹریفک حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ اس شاہراہ پر ایم ایم ٹی کراسنگ سے کم از کم نارہ بل تک متعدد ٹریفک اہلکاروں کو تعینات کیا جاے تا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کے مرتکب افراد کی لائینس منسوخ کرنے کے ساتھ ساتھ ان پر بھاری جرمانے عاید کئے جائیں اس سے لوگ عبرت حاصل کرسکیں اور انسان جانیں بھی ضایع ہونے سے بچ سکیں۔ٹریفک نظام میں جتنی بہتری ہوگی اتنے ہی کم ٹریفک حادثات رونما ہونگے اسلئے انسانی جانوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے محکمے کو متحرک کیا جانا چاہئے ۔














