ویجی لنس بیداری کا ہفتہ یہاں 28اکتوبر سے 3نومبر 2024کو منایا جاتاہے ۔اس وقت بھی یہاں یہ ہفتہ منانے کا آغاز ہوا ہے اور سب سے پہلے لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے افسران اور ملازمین کو دیانتداری کا عہددلایا ۔اس بار اس ہفتے کا موضوع ”ملک کی خوشحالی کے لئے دیانتداری کا کلچر “ہے ۔منوج سنہا نے اپنے پیغام میں کہا کہ ”کو رپشن دیر پا ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔کیونکہ یہ وسایل کو ضروری خدمات اور اقتصادی ترقی سے دور کرتی ہے ۔مجموعی طور پر تنظیموں ،اداروں اور معاشروں کے آسان اخلاقی اور شفاف کام کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔ٹیکنالوجی کا فایدہ اٹھانا شفافیت کو بڑھانے اور بدعنوانی کو کم کرنے میں مدد گار ہے ۔تمام شراکت داروں میں نگرانی کی آگاہی جوابدہی کے کلچر کو فروغ دیتی ہے ۔عوامی مفادات کا تحفظ کرتی اور اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ ادارے موثر اور دیانتداری کے ساتھ کام کریں ۔محتاط رہ کر ہم ایک ایسے نظام کی تشکیل میں رول ادا کرتے ہیں جو معاشرے میں انصاف اور ترقی کو فروغ دیتا ہے ۔تمام محکموں اور افراد کو بد عنوانی کی رپورٹنگ اور مناسب شفاف اور جوابدہ حکمرانی میں اہم کردار ادا کرنا چاہئے “اسی طرح اس ہفتے کی مناسبت سے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سول سیکریٹریٹ میں اپنے افسروں اور ملازمین کو دیانتداری کا عہد دلاتے ہوے ان سے کہا کہ وہ بدعنوانیوں اور کورپشن سے دور رہ کر ایک صالح معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادار کریں ۔وزیر اعلیٰ نے بدعنوانی سے پاک جموں کشمیر کو آگے لے جانے کا عزم دہرایا اور کہا کہ سالمیت کسی بھی کامیاب قوم کی بنیاد ہوتی ہے ۔جبکہ بد عنوانی کا خاتمہ ان کی ترجیحات میں شامل ہے ۔اس ہفتے کے آغاز پر ہر ضلع ہیڈکوارٹر پر ڈپٹی کمشنروں نے بھی اپنے ماتحت افسروں اور دیگر ملازمین کو دیانتداری کا عہد دلایا ۔انہوں نے بھی بصدق دل اس بات کا عہد کیا کہ وہ زندگی بھر ہر معاملے میں دیانتداری ،ایمانداری اور سچائی کی پاسداری کرینگے اور کبھی بھی ایسا کوئی کام نہیں کرینگے جس سے دوسروں کی حق تلفی ہوجاے ۔یہ سب کچھ اپنی جگہ درست ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ایک بات اور بھی ہے کہ ہر فرد بشر کو یہ بات ذہن نشین کرنی چاہئے کہ انہوں نے محض دکھاوے کے لئے عہد نہیں کیا ہے بلکہ ان کو عملی طور پر اس کا مظاہرہ بھی کرنا ہوگا۔ان کو کبھی کوئی ایسا کام نہیں کرنا ہوگا جس سے دوسروں کی حق تلفی ہوجاے یا کسی حقدار کو اس کا حق نہ مل سکے ۔ماضی میں ہم اس بات کا بار بار مشاہدہ کرچکے ہیں کہ معاشرے میں رشوت ستانی ،بدعنوانیوں وغیرہ نے اپنی جڑیں کافی مضبوط کی تھیں لیکن اب لوگوں میں یہ شعور پیدا ہوگیا ہے کہ سچائی ایماندار ی اور بدعنوانیوں سے دور رہ کر ایک صاف ستھرے سماج کی تشکیل دی جاسکتی ہے بصورت دیگر اگر آج ہم غلط کام کرینگے ۔رشوت یا بے ایمانی کو اپنا شعار بناینگے تو کل ہمارے بچے بھی یہی راستہ اپنا کر اپنے ہی مستقبل کو تاریک بناینگے ۔اسلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ صرف اس معاملے میں زبانی جمع خرچ سے کام نہ چلا کر حقیقی معنوں میں ایمانداری ،سچائی ،خوش خلقی اور محنت کو اپنے رگ وپے میں سما کر ایک خوشگوار سماج کی بنیاد ڈال کر اپنے ملک کا نام روشن کریں ۔












