’خاموش مذاکرہ:حواشی سے مرکز تک‘کے دوسرے ایڈیشن کا افتتاح کیا
نئی دلی۔/ امور خارجہ کے مرکزی وزیر ڈاکٹر ایس جے شنکر نے 17 اکتوبر 2024 کو نئی دہلی میں "خاموش مذاکرہ : حواشی سے مرکز تک” آرٹ نمائش کے دوسرے ایڈیشن کا افتتاح کیا۔ اس چار روزہ نمائش کا اہتمام نیشنل ٹائیگر کنزرویشن اتھارٹی نے سنکلا فاؤنڈیشن، نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن اور انٹرنیشنل بگ کیٹ الائنس کے ساتھ مل کیا ہے۔نمائش کا افتتاح کرتے ہوئے ڈاکٹر ایس جے شنکر نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی ترقی کا سفر ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ گہرائی سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے مختلف اقدامات کے ذریعے درج فہرست قبائل کی فلاح و بہبود کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا اور اس بات کو اجاگر کیا کہ انتیودیہ اسکیم پسماندہ طبقوں کی ترقی اور اس بات کو یقینی بنانے کے اصول پر مبنی ہے کہ کوئی بھی پیچھے نہ رہے۔مرکزی وزیر ڈاکٹر ایس جے شنکر نے کہا کہ ہندوستان نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ماحولیاتی تحفظ میں قابل ذکر پیش رفت حاصل کی ہے۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ میں 2022 کی ترامیم کا مقصد ماحولیاتی تحفظ کو ترقیاتی ضروریات کے ساتھ متوازن کرنا ہے۔ انہوں نے نیشنل ٹائیگر کنزرویشن اتھارٹی کی کامیابی کا سہرا قبائلی برادریوں اور جنگل کے مکینوں کے سر باندھا، جن کی سرپرستی نے جنگلات کو پھلنے پھولنے میں مدد کی ہے اور جو غیر قانونی شکار کے خلاف سرگرم عمل رہے ہیں۔ انہوں نے جن بھاگیداری کے تصور کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ پالیسیاں سب سے زیادہ موثر ہوتی ہیں، جب تمام شہریوں کی طرف سے اختیار کی جائیں ۔ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے مرکزی وزیر جناب بھوپیندر یادو نے ویڈیو پیغام میں اس بات پر زور دیا کہ بقائے باہم کا جذبہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح برادریاں تحفظ اور فطرت کے احترام کے ساتھ ہم آہنگی میں رہتی ہیں۔ انہوں نے اس نقطہ نظر کی تعریف کی، خاص طور پر جب دنیا کو موسمیاتی تبدیلی، حیاتیاتی تنوع میں کمی، اور زمین کے صحراء بن جانے جیسے اہم چیلنجز کا سامنا ہے۔اس موقع پر "چھپے خزانے : ٹائیگروں کے محفوظ علاقوں میں ہندوستان کی میراث” کے عنوان سے ایک کتاب اور "بگ کیٹس” نامی میگزین کا بھی اجرا ءکیا گیا۔شام میں ایک ثقافتی پروگرام کا بھی اہتمام کیا گیا، جس میں ثقافت اور سیاحت کے مرکزی وزیر ڈاکٹر گجیندر سنگھ شیخاوت نے شرکت کی۔














