وزیراعظم مودی نے میانمارمیں جمہوریت کی بحالی پر زور دیا۔ وزارت خارجہ
وینٹیانے( لاؤس) وزیر اعظم نریندر مودی نے لاؤس میں مشرقی ایشیا سمٹ میں رہنماؤں کے ساتھ اپنی ملاقاتوں کے دوران، میانمار کو شامل کرنے پر زور دیا اور کہا کہ اسے الگ تھلگ نہیں کیا جانا چاہئے۔وزیراعظم نے بحران زدہ ملک میں جمہوریت کی بحالی کی اہمیت پر بھی زور دیا اور تمام اقوام پر زور دیا کہ وہ اس کے لیے مل کر کام کریں۔ وزارت خارجہ میںسکریٹری (مشرق( جے دیپ مزومدار نے جمعہ کو ایک خصوصی بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بہت سے رہنماؤں نے آسیان کے پانچ نکاتی اتفاق رائے کی اہمیت پر زور دیا۔ وزیر اعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ میانمار کو مشغول رہنا چاہئے اور اسے الگ تھلگ نہیں کیا جانا چاہئے اور یہ کہ میانمار میں جمہوریت کی بحالی ضروری ہے اور اس کے حصول کے لئے تمام ممالک کو مل کر کام کرنا چاہئے۔ کابل ذکر بات یہ ہے کہ میانمار میں تین سال قبل فوجی بغاوت کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد سے حالات کشیدہ ہیں۔ تشدد اور جھڑپوں کے کئی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جس کی وجہ سے خطے میں سکیورٹی خدشات ہیں۔وزیر اعظم مودی لاؤس کے ہم منصب سونیکسے سیفنڈون کی دعوت پر 10-11 اکتوبر تک لاؤس کے دو روزہ دورے پر تھے۔ انہوں نے 21ویں آسیان-انڈیا سمٹ اور 19ویں مشرقی ایشیا سمٹ میں شرکت کی۔ایم ای اے کے سکریٹری نے مزید کہا کہ پی ایم مودی نے عالمی سطح کے موقع کا فائدہ اٹھایا اور نالندہ یونیورسٹی میں منعقدہ کانفرنس میں شرکت کے لیے سربراہی اجلاس ریاستوں کے اعلیٰ تعلیم کے سربراہوں کو مدعو کیا۔وزیراعظم نے نالندہ یونیورسٹی کے احیاء کے لیے ایسٹ ایشیا سمٹ ریاست کی طرف سے موصول ہونے والی حمایت کو یاد کیا اور بتایا کہ اب ہم نے اسے فعال کر دیا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر مشرقی ایشیاء سمٹ ریاستوں کے سربراہان اعلیٰ تعلیم کو شرکت کی دعوت دی۔













