دکی( بلوچستان)/ دکی کوئلے کی کانوں پر حملے میں مرنے والوں کی تعداد 20 ہو گئی ہے۔ اے آر وائی نیوز نے جمعہ کو ہسپتال کے حکام کے حوالے سے یہ اطلاع دی۔تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے ضلع دکی میں کوئلے کی کانوں پر راکٹوں اور دستی بموں سے مسلح افراد نے حملہ کیا جس کے نتیجے میں 20 کان کن جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔جاں بحق اور زخمیوں کو مقامی ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے تصدیق کی کہ متاثرین کا تعلق پشین، قلعہ سیف اللہ، ژوب، مسلم باغ، موسیٰ خیل، کوئٹہ اور افغانستان سمیت مختلف علاقوں سے تھا۔پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے فائرنگ کرنے سے پہلے کان کنوں کو گروپوں میں جمع کیا۔ ایس ایچ او ہمایوں خان نے بتایا کہ جاں بحق اور زخمی ہونے والے تمام افراد پشتون تھے۔بلوچستان نے حالیہ مہینوں میں عام مزدور یا اجرت کمانے والوں کے خلاف کئی دہشت گرد حملے دیکھے ہیں لیکن ان میں بنیادی طور پر صوبہ پنجاب کے لوگوں کو نشانہ بنایا گیا۔اس سے قبل ہرنائی کوئلہ کان میں دھماکہ 19 مارچ کو ہوا تھا اور اس میں 12 کان کن ہلاک اور 6 زخمی ہوئے تھے۔رپورٹ کے نتائج میں کوئلے کی کان کے مالک اور ٹھیکیدار کو مہلک دھماکے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ کان 6 ماہ سے بند تھی اور دوبارہ کھولنے کے بعد کان میں گیس کی سطح کو جانچنے کے لیے کوئی اہلکار تعینات نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا۔کان میں گیس کی سطح کو جانچنے کے لیے کان میں ایک بھی سامان دستیاب نہیں تھا اور کان سے گیس خارج کرنے کے لیے کوئی متبادل راستہ موجود نہیں تھا۔














