بانہال سے سنگلدان تک مزید ریل گاڑیاں چلانے کا مطالبہ
سرینگر////سنگلدان سے بانہال تک ریل گاڑیاں چلانے میں اضافے کا مطالبہ کرتے ہوئے مقامی لوگوں نے کہا کہ ریل میں سفر کرنے کےلئے لوگوں کی بڑی تعداد سنگلدان پہنچ رہی ہے۔ تاہم بانہال سے صرف دوریل گاڑیاں ہی سنگلدان تک چلائی جارہی ہے جبکہ سنگدان میں مشہور چشمہ تتا پانی بھی واقع ہے اور نہ صرف جموں صوبہ بلکہ وادی کشمیر کے دور درازعلاقوں سے بھی لوگ اس چشمہ پرجاتے ہیں۔ وائس آ ف انڈیا کے مطابق 20فروری سے بانہال سنگلدان ریل شروع کی گئی۔ سنگدان میں تتا پانی چشمہ بھی ہے اور اس جگہ وادی کے دور دراز علاقوں سے لوگ آتے ہیں اس لحاظ سے بھی اس جگہ کی کافی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ تتا پانی چشمہ پر نہ صرف جموں ، راجوری ، بھدرواہ، ڈوڈہ کشتواڑ، اوردیگر علاقوںسے لوگ آتے ہیں بلکہ وادی کشمیر کے دور دراز علاقوں سے بھی کافی لوگ تتا پانی چشمے پر آتے ہیں۔وی او آئی نمائند ے امان ملک کے مطابق جب سے سنگلدان سے بانہال ریل شروع ہوئی لوگوں کی بڑی تعداد اس ریل میں سنگلدان جانا چاہتے ہیں اورہزاروں لوگ دن بھر سنگدان پہنچتے ہیں لیکن اس ٹریک پر بانہال سے صرف دو ہی ٹرینوں کو چلایا جارہا ہے۔ لوگوںنے کہاکہ کشمیر کے سرینگر، بڈگام اور بارہمولہ سے دن بھی متعدد گاڑیاں بانہال تک پہنچ جاتی ہے تاہم بانہال سے آگے جانے کی اجازت صرف دو ہی ٹرینوں کو ہوتی ہے۔ انہوںنے بتایا کہ ریل کا سفر کرنے والے شوقین مایوس ہوکر بانہال سے واپس چلے آتے ہیں۔ انہوںنے بتایا کہ سنگدان ایک خوبصورت علاقہ ہے اور ریل سرو س چالو ہونے سے یہ ایک سیاحتی مقام بن جائے گا تاہم اس ٹریک پر مزید ٹرینوںکو چلایا جانا چاہئے۔














