سرینگر29ستمبر//یو پی آئی // جموںوکشمیر آج تباہی اور بربادی کے ایسے دہانے پر آپہنچا ہے جہاں لوگ ہر طرح سے پریشانِ حال ہیں اور نوجوان پود مایوسی کے اندھیروں میں گری ہوئی ہے لیکن یہ نوبت کیسی آئی؟ ہم تک کیسے پہنچے؟ کن لوگوں نے ہمیں یہاں تک پہنچایا؟ موجودہ اسمبلی انتخابات میں ان باتوں پر غور کرنا اور اس کے بعد اپنی حق رائے دہی کا استعمال کرنا ہر ایک ذی شعور اور ذی حس انسانی کا فرض بنتا ہے۔ ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس نائب صدر نے شمالی کشمیر میں چناﺅی مہم کے آخری روز بارہمولہ، ہندوارہ، کرناہ میں فقید المثال عوامی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ عمر عبداللہ نے کہاکہ جموںوکشمیر کو یہاں تک لانے والے وہی لوگ ذمہ داری ہیں، جن لوگوں نے 2014میں بی جے پی کیلئے یہاں کے دروازے کھولے۔ جن پارٹیوں نے پہلے بھاجپا کیخلاف ووٹ مانگے ، لوگوں کو سبز باغ دکھائے اور بعد میں انہی کیساتھ حکومت بنائی اور کشمیری قوم آج تک اس کا خمیازہ بھگت رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں حیران ہوا جب پی سی کے لیڈر سجاد لون نے ’مودی کا جو یار ہے غدار ہے‘ کا نعرہ لگایا۔اسی نعرے سے ثابت ہوگیا ہے کہ موصوف کے پیروں تلے زمین کھسک گئی ہے۔ اسی سجاد لون کو بی جے پی نے اپنے کوٹا میں سے ایک با رنہیں بلکہ دو بار وزارت دی۔ بی جے پی کو یہاں لانے میں جتنی پی ڈی پی ذمہ داری ہے اُتنی ہی پی سی بھی ہے۔ بی جے پی نے سجاد لون کو صرف دو بار وزیر نہیں بنایا بلکہ 2018میں جب ہم نے بی جے پی کی سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے تمام پارٹیوں نے ایک متحدہ حکومت بنانے کیلئے گورنر کے پاس دعویٰ پیش کیا تو اُس وقت بھاجپا نے سجاد لون کو حکومت بنانے کیلئے حمایت دی اور تحریری خط کے ذریعے اپنے ایم ایل اے اُس کے حوالے کردیئے اور آج یہی سجاد لون عوام کو سادہ لوح سمجھ کر گمراہ کُن نعرے لگا رہاہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ حالیہ پارلیمانی انتخابات میں بھاجپا نے سجاد لون کو 7ہزار مائیگرنٹ ووٹ نہیں ڈلوائے ہوتے تو اُس کی ضمانت بھی ضبط ہوگئی ہوتی۔ بی جے پی نے سجاد لون کو نہ صرف وزیر بنایا بلکہ اس کی ضمانت بھی بچائی اور یہی شخص آج مودی کیخلاف نعرے بازی کررہاہے۔ انہوں نے کہا کہ سجاد لون نے پارلیمانی انتخابات میں پوسٹروں اور بینروں پر اپنے والد کی تصویر لگانے سے گریز کیا اور آج موصوف کو اپنے والد کی یاد بھی آئی ہے ۔ جموں و کشمیر میں جو تباہی اور باربادی ہوئی، جن مشکلات کے دور سے لوگ گذر رہے ہیں، جو پکڑ دھکڑ ، گرفتاریاں، ایف آئی آر، بے روزگاری اور بے چینی ہے ، اس سب کیلئے یہی لوگ ذمہ داری ہیں۔ جنوبی کشمیر کے عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہاکہ مجھے کوئی گلہ نہیں کہ میں نے پارلیمانی الیکشن نہیں جیتا، میں اسے اللہ تعالیٰ کی مرضی مانتا ہوں لیکن مجھے اس بات کا افسوس ضرور ہے کہ پارلیمنٹ میں جنوبی کشمیر کے عوام کی نمائندگی کرنے والا کوئی نہیں، یہاں کے نوجوان سرینگر کے رکن پارلیمان آغا سید روح اللہ مہدی کی تقریریں سُن کا اپنا دل بہلاتے ہیںاور خوش ہوتے ہیں لیکن ان کا اپنا نمائندہ ایسا کرنے سے قاصر ہے او ریہی بات میں نے الیکشن میں سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ آپ ایسا نمائندہ چُنئے جو آپ کی بھر پور نمائندگی کرسکے۔ آپ نے انجینئر رشید کو ووٹ ڈالے لیکن وہ رہا نہیں ہوا، اُسے صرف 20دن کیلئے چھوڑا گیا ہے تاکہ ہو یہاں کے لوگوں کے ووٹ تقسیم کرسکے۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ جس ایف آر آئی میں رشید کو گرفتار کیا گیا ہے اُسی ایف آئی آر میں یاسین ملک، شبیر شاہ، مسرت عام اور آسیہ اندرابی صاحبہ کا نام بھی شامل ہے، پھر باقی لوگوں کو باہر آنے کی اجازت کیوں نہیں؟یہ سوچنے والی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ انجینئر رشید کہتا ہے کہ وہ حریت کی آواز بننے اور یاسین ملک کو پھانسی سے بچانے کی باتیں کرتا













