مردوزن اور نوجوان ووٹروں کا سیلاب:ریکارڈووٹنگ،مجموعی شرح70فیصد
پولنگ کا مقررہ وقت مکمل ہونے کے بعد قطاروںمیں موجود ہزاروں ووٹروں کو ووٹ ڈالنے کا موقعہ فراہم کیاگیا،پورے دن پُرامن پولنگ
سرینگر/ جموں وکشمیرمیں 10سال بعد منعقد ہونے والے اسمبلی انتخابات کا پہلا مرحلہ ریکارڈساز رہا،کیونکہ جنوبی کشمیر اور خطہ چناب کے7اضلاع میں قائم 24اسمبلی حلقوںمیں واقع3276پولنگ بوتھوں پر بدھ کو صبح 6بجے سے شام 7بجے تک ووٹروں کاسیلاب اُمڈ آیا ،اور ابھی تک ملی اطلاعات کے مطابق11گھنٹے کے بعد پولنگ کی مجموعی شرح تقریباً70فیصد ریکارڈکی گئی جبکہ شام 5بجے تک پولنگ کی مجموعی شرح58.19فیصد تھی۔جے کے این ایس کے مطابق اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے میں پختہ سیکورٹی انتظامات کے بیچ جنوبی کشمیر اور خطہ چناب میں خاصا جوش خروش پایاگیا ،اور بدھ کی صبح ووٹ ڈالنے کے مقررہ وقت یعنی 7بجے سے پہلے ہی مردزون اور نوجوان پولنگ مراکز پہنچ گئے تھے ۔مقررہ وقت یعنی7بجے ووٹ ڈالنے کا عمل شروع ہونے کے بعد پہلے2گھنٹے یعنی صبح9بجے تک 24حلقوں میں پولنگ کی مجموعی شرح11فیصد درج ہوئی ۔تاہم اسکے بعد ووٹروںکی آمدمیں تیز ی آنے کے نتیجے میں اگلے2گھنٹوں کے دوران بڑی تعدادمیں رائے دہندگان نے اپنے ووٹ ڈالے ۔قابل ذکر ہے کہ پہلے مرحلے میں 24اسمبلی حلقوں میں 219اُمیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے ۔ ووٹروں کی کل تعداد23.27 لاکھ تھی ،جن میں 11.76 لاکھ مرد ووٹر، 11.51 لاکھ خواتین ووٹر،60خواجہ سرااور5.66 لاکھ نوجوان ووٹر بھی شامل ہیں۔بدھ کو صبح 11بجے تک پولنگ کی مجموعی شرح26.72فیصد ریکارڈ کی گئی جبکہ دوپہر ایک بجے پولنگ کی یہ شرح 41.17فیصدتک پہنچ گئی ۔الیکشن کمیشن نے کہاکہ دوپہرکے بعد ووٹ ڈالنے میں تیزی آنے سے سہ پہر 3بجے24حلقوںمیں پولنگ کی مجموعی شرح50.65فیصد ہوگئی جبکہ اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے میں بدھ کو شام 5 بجے تک 58.19 فیصد ووٹ ڈالے گئے۔کمیشن کے ذرائع نے بتایاکہ ووٹ ڈالنے کے آخری مقررہ وقت شام6بجے بھی بڑی تعدادمیں رائے دہندگان پولنگ مراکز کے باہر قطاروںمیں موجودتھے ،اسلئے پولنگ کے وقت میں اضافہ کیاگیا اور قطاروںمیں موجود سبھی ووٹروں کو اپنے حق رائے دہی کے استعمال کا موقعہ فراہم کیا گیا ۔انہوںنے بتایاکہ مقررہ وقت کے اختتام پر سرسری اعداد وشمار کے مطابق آخری2گھنٹے میں ووٹروں کا سیلاب اُمڈ آنے سے پولنگ کی مجموعی شرح تقریباً70فیصد کو تجاوز کر گئی ،تاہم الیکشن کمیشن کے حکام نے بتایاکہ اصل اعداد وشمار کا خلاصہ جموں وکشمیرکے چیف الیکٹورل آفیسر پی کے پول پولنگ کا وقت مکمل ہونے کے ایک گھنٹے کے بعد کریں گے ،کیونکہ خطہ چناب کے کچھ دوردراز کے علاقوں میں ڈالے گئے ووٹوں کی تفصیلات آنا باقی ہیں ۔ضلع ڈوڈہ میں کُل 3,10,613 رجسٹرڈ رائے دہندگان درج کئے گئے ہیں جن میں1,60,057مرد ، 1,50,521خواتین اور 8 خواجہ سرا شامل ہیں۔ اِن حلقوں میں کُل 534 پولنگ سٹیشن قائم کئے گئے تھے۔اننت ناگ ضلع سات اسمبلی حلقوں پر مشتمل ہے جس میں 6,67,843 رائے دہندگان ہیں جن میں 3,36,200 مرد، 3,31,639 خواتین اور 4 خواجہ سرا رائے دہندگان شامل ہیں۔ ضلع بھر میں 844 پولنگ سٹیشنوں کا جامع نیٹ ورک قائم کیا گیاتھا۔ضلع رام بن میں اس کے دو اسمبلی حلقوں میں کُل 2,24,214 رائے دہندگان رجسٹرڈ ہیں جن میں 1,16,019مرد ووٹر ، 1,08,193خواتین رائے دہندگان اور ایک خواجہ سرا ووٹر شامل ہیں۔ دو اسمبلی حلقوں میں کُل 365 پولنگ سٹیشن قائم کئے گئے تھے۔ضلع شوپیاںکو دو اسمبلی حلقوں میں تقسیم کیا گیا ہے جہاں کُل 2,09,062رجسٹرڈ رائے دہندگان ہیںجن میں 1,04,894مرد ، 1,04,161 خواتین اور 7 خواجہ سرا رائے دہندگان شامل ہیں۔ الیکشن کمیشن آف اِنڈیانے ووٹنگ کے عمل کو آسان بنانے کے لئے دونوں حلقوں میں 251 پولنگ سٹیشن قائم کئے تھے۔پلوامہ ضلع میں کُل 4,07,637 رائے دہندگان درج ہیں جن میں 2,02,475 مرد ، 2,05,141 خواتین اور 21 خواجہ سرا ووٹر شامل ہیں۔ الیکشن کمیشن نے ضلع بھر میں 481 پولنگ سٹیشن قائم کئے ہیں۔ضلع کولگام تین اسمبلی حلقوں پر مشتمل ہے جس میں 3,28,782 رجسٹرڈ رائے دہندگان ہیں جن میں 1,64,852 مرد، 1,63,917خواتین اور 13 خواجہ سرا ووٹر شامل ہیں۔الیکشن کمیشن نے آزادانہ، منصفانہ اور شفاف اِنتخابات کے لئے 372 پولنگ ا سٹیشن قائم کئے تھے ۔ضلع کشتواڑ میں تین اسمبلی حلقوں میں کُل 1,79,374 رائے دہندگان ہیں جن میں 91,935 مرد اور 87,435 خواتین شامل ہیں اور 4خواجہ سرا رائے دہندگان اَپنے حق رائے دہی کا اِستعمال کرنے کے لئے تیار ہیں۔ الیکشن کمیشن نے ووٹنگ کے عمل کو آسان بنانے کے لئے ضلع بھر میں 429 پولنگ سٹیشن قائم کئے تھے۔الیکشن کمیشن آف اِنڈیا نے آسان اور بغیر پریشانی اِنتخابی شرکت کے لئے رائے دہندگان کی سہولیت کے لئے 24 اَسمبلی حلقوں میں صد فیصد ویب کاسٹنگ کےساتھ 3276 پولنگ سٹیشن قائم کئے تھے۔ ان میں 302 شہری پولنگ سٹیشن اور 2,974 دیہی پولنگ سٹیشن شامل ہیں۔رائے دہندگان کی شرکت کو بڑھانے کے لئے 24 پولنگ سٹیشن خواتین کے زیر اِنتظام ہوں گے جنہیں پنک پولنگ سٹیشن کہا جاتا ہے ، 24 پولنگ سٹیشن جسمانی طور خاص اَفراد اور 24 پولنگ سٹیشن نوجوانوںکی نگرانی میں چلائے جائیں گے ۔اِس کے علاوہ ماحولیاتی ماحول کے بارے میں پیغام پھیلانے کےلئے 24 پولنگ سٹیشن اور 17 منفردپولنگ سٹیشن بھی قائم کئے گئے تھے ۔ووٹنگ صبح 7 بجے سے شام 6 بجے تک ہوئی تاہم شام 6بجے سے پہلے قطاروںمیں موجودووٹروں کو مقررہ وقت کے بعد بھی حق رائے دہی کے استعمال کا موقعہ فراہم کیاگیا ۔













