ملک میں لوک سبھا، اسمبلیوں اور بلدیاتی اداروں کاایک ساتھ انتخابات کرانے کی تجویز کو نافذ کرنے کا فیصلہ
نئی دہلی/مرکزی کابینہ نے ملک میں لوک سبھا، اسمبلیوں اور بلدیاتی اداروں کے ایک ساتھ انتخابات کرانے کے انتہائی اہم ہدف ‘ ون نیشن، ون الیکشن ‘ کی جویز کو نافذ کرنے کے سلسلے میں آج ایک اہم فیصلہ کیا اور سابق صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند کی قیادت والی اعلیٰ سطحی کمیٹی کی اس تجویز کو بدھ کو منظوری دی گئی۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں منعقدہ کابینہ کی میٹنگ میں فیصلوںکے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے اطلاعات و نشریات کے وزیر اشونی ویشنو نے ایک پریس کانفرنس میں کہا، "کابینہ نے آج ایک اہم فیصلہ کیا ہے اور ون نیشن ، ون الیکشن کے حوالے سے تشکیل کردہ ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کی سفارشات منظور کر لی ہے ۔مسٹر ویشنو نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اس نظام کے حوالے سے سیاسی اور سماجی میدان میں وسیع بحث کرے گی۔ اس کے بعد اسے تمام فریقوں کی رضامندی سے نافذ کیا جائے گا اور اسے 2029 تک اسی مدت میں نافذ کرنے کا ارادہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس کی رپورٹ ویب سائٹ پر موجود ہے ۔ کوئی بھی اسے دیکھ کر اپنی رائے دے سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں نے اس خیال پر انتہائی مثبت اور حوصلہ افزا ردعمل کا اظہار کیا ہے ۔ یہ پوچھے جانے پر کہ اسے کب نافذ کیا جائے گا، مسٹر ویشنو نے کہا کہ دو تین ماہ میں اس پر بحث کرنے کے بعد اتفاق رائے ہو جائے گا، اس اتفاق رائے کے مطابق عمل درآمد سے متعلق ایک گروپ بنایا جائے گا جو اس نظام کے لیے ضروری قانون بنائے گا۔ ترمیم وغیرہ جیسے عمل کو مکمل کرنے کے لیے ایک فریم ورک تیار کرے گا۔ حکومت اسے 2029 تک موجودہ دور حکومت میں ہی نافذ کرنا چاہتی ہے ۔ جب کانگریس صدر ملک ارجن کھڑگے سے ون نیشن، ون الیکشن کو ناممکن قرار دینے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ اعلیٰ سطحی کمیٹی کی میٹنگ میں کئی پارٹیوں کے نمائندوں نے جو سامنے سے مخالفت کر رہے ہیں، بہت تعمیری تجاویز پیش کی ہیں۔ اس لیے ہم امید کرتے ہیں کہ اس فیصلے پر اتفاق رائے سے عمل درآمد ہو سکتا ہے ۔مسٹر ویشنو نے کہا کہ 1952 سے 1967 تک ملک میں تمام انتخابات ایک ساتھ ہوئے تھے ۔ لاءکمیشن نے 1999 میں اپنی 170 ویں رپورٹ میں پانچ برسوں میں لوک سبھا اور تمام قانون ساز اسمبلیوں کے بیک وقت انتخابات کرانے کا مشورہ دیا تھا۔ سال 2015 میں پارلیمانی کمیٹی کی 79ویں رپورٹ میں بھی اس نظام کو دو مرحلوں میں نافذ کرنے کی بات کی گئی تھی۔ کمیٹی کی رپورٹ میں اسے دو مرحلوں میں نافذ کرنے کی تجویز بھی ہے ۔ پہلے مرحلے میں لوک سبھا اور قانون ساز اسمبلیوں کے انتخابات ایک ساتھ کرانے کی تجویز ہے جبکہ دوسرے مرحلے میں ان کے ساتھ تمام بلدیاتی اداروں کے انتخابات کرانے کی تجویز ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ون نیشن ون الیکشن کی تجویز کو ملک بھر میں بڑے پیمانے پر پذیرائی ملی ہے ۔ اس سے قبل پارلیمنٹ کی کچھ کمیٹیاں اور سماجی تنظیمیں بھی اس تجویز کی وکالت کر چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے معاشی ترقی کو تقویت ملے گی۔ قابل ذکر ہے کہ کووند کمیٹی نے اپنی سفارش میں کہا ہے کہ متواتر انتخابات کی وجہ سے ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ کا نفاذ حکومتوں کے منصوبہ بندی کے فیصلوں کو متاثر کرتا ہے اور ترقیاتی کاموں کی رفتار کو روکتا ہے ۔ خیال رہے کہ کووند کمیٹی کو دیئے گئے میمورنڈم میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی تمام اتحادی جماعتوں نے واضح طور پر اس تصور کی حمایت کی تھی، جب کہ کانگریس، عام آدمی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی اور ترنمول کانگریس جیسی جماعتوں نے اس پر اپنے مختلف اعتراضات درج کرائے تھے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو ون نیشن ون الیکشن کے نظام کے نفاذ کے لیے آئین میں ترمیم کا بل لانا ہوگا۔














