جموں کشمیر اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کے سلسلے میں آج ووٹنگ ہوگی ۔یعنی 90رکنی قانون ساز اسمبلی کی تشکیل کے لئے انتخابات کا پہلا مرحلہ آج ہے اور 24انتخابی حلقوں میں گیارہ گھنٹے کی پولنگ ہوگی ۔جیسا کہ ان ہی کالموں میں پہلے ہی لکھا جاچکاہے کہ جمہوری طرز نظام میں انتخابات کو اچھی خاصی اہمیت حاصل ہے ۔اور انتخابی عمل کے بغیر جمہوریت بے کار سی چیز ہے ۔اب جموں کشمیر میں تقریباً دس برسوں کے بعد لوگ اسمبلی انتخابات کے لئے ووٹ ڈالنے جارہے ہیں اور آج اس کا پہلا مرحلہ ہے ۔پہلے مرحلے میں چوبیس حلقوں میں ووٹنگ ہوگی اور ان حلقوں میں 219امیدوار قسمت آزمائی کررہے ہیں ۔ووٹروں کی کُل تعداد 23.27لاکھ ہے جبکہ ان میں نوجوان ووٹروں کی تعداد 5.66بتائی گئی جن میں 1.23لاکھ ایسے ووٹر شامل ہیں جو پہلی بار حق رائے دہی کا استعمال کررہے ہیں ۔چیف الیکٹورل افسر نے بتایا کہ منصفانہ اور شفاف ووٹنگ کے عمل کو یقینی بنانے کے لئے3276پولنگ سٹیشن قایم کئے گئے ہیں جہاں ووٹروں کو ہر طرح کی سہولیات دستیاب ہونگی۔انتخابات کے حوالے سے جو اعداد وشمار جاری کئے گئے ہیں ان کے مطابق سات اضلاع میں 24اسمبلی حلقوں میں ووٹنگ ہوگی ۔ان میں کشمیر ڈویثرن میں اننت ناگ ،پلوامہ ،شوپیاں اور کولگا م جبکہ جموں ڈویثرن میں ڈوڈہ ،رام بن ،اور کشتوارڈ شامل ہیں ۔وادی میں جن سولہ حلقوں میں ووٹنگ ہوگی ان میں پانپور ،ترال ،پلوامہ ،راج پورہ ،زینہ پورہ ،شوپیاں ،ڈی ایچ پورہ ،کولگام ،دیوسر ،ڈورو ،کوکرناگ ایس ٹی ،اننت ناگ ویسٹ ،سری گفوارہ-بیجبہاڑہ ،شانگس ،اننت ناگ ایسٹ ،اور پہلگام شامل ہیں ۔جبکہ جموں ڈویثرن میں جن آٹھ انتخابی حلقوں میں ووٹنگ ہوگی ان میں اندروال ،کشتوارڈ ،پڈر ،ناگسینی ،بھدرواہ ،ڈوڈہ ،ڈوڈہ ایسٹ ،رام بن اور کشتوارڈ شامل ہیں ۔تازہ ترین انتخابی فہرستوں کے مطابق اس مرحلے میں 23,27,580لاکھ ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے اہل ہیں ۔جن میں 11,76,462لاکھ مرد ووٹر ،اور 11,51,058لاکھ خواتین اور 60تیسری جنس کے ووٹرز شامل ہیں ۔جموں کشمیر کے نوجوانوں کی طرف سے جمہوریت کو مضبوط کرنے میں جو کردار ادا کیا جارہا ہے اس کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوے اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے میں 5.66لاکھ نوجوان ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں ۔ان ووٹروں میں 18سال سے 19سال کی عمر کے 1,23,960ووٹر شامل ہیں جو پہلی بار اپنے ووٹوں کا استعمال کرنے والے ہیں ۔ووٹنگ کے دوران سیکورٹی کے بھر پور انتظامات کئے گئے ہیں اور دن رات چکنگ کا انتظام کیا گیا ہے تاکہ ووٹنگ کا عمل بغیر کسی گڑ بڑ کے اچھی طرح سے جاری رہ سکے ۔ووٹروں کی شرکت بڑھانے کے لئے خصوصی پولنگ سٹیشنز جن میں خواتین کے لئے پنک سٹیشنز ،pwdسے چلنے والے سٹیشنز،نوجوانوں کے لئے چلنے والے سٹیشنز اور گرین پولنگ سٹیشنز شامل ہیں متعارف کرائے گئے ہیں ۔اسلئے لوگوں کو چاہئے کہ وہ بلاخوف و خطر اپنے ووٹوں کا استعمال کرکے جمہوریت کی کامیابی کے لئے کام کریں ۔ووٹ ڈالنا تو ہر ایک بالغ مرد عورت کے لئے ایک لازمی امر ہے اور اس سے انحراف کی کوئی گنجایش نہیں ہے ۔













