سرینگر/ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ بھاجپا نے اپنے حقیر مفادات کیلئے مسلمانوں کو بدنام کرنے میں کوئی کثر باقی نہیں چھوٹی اور وزیر اعظم مودی اس میں کسی سے پیچھے نہیں رہے اور آج جموںوکشمیر میں اسمبلی انتخابات کا بگل بجتے ہی بھاجپا نے پھر سے لوگوں کو تقسیم کرنے کیلئے مذہبی بنیادوں گندی سیاست کھیلنی شروع کردی۔ وہ کیلر شوپیان میں ایک چناﺅی جلسے سے خطاب کررہے تھے جس کا انعقاد پارٹی کے سینئر لیڈر اور اُمیدوار برائے شوپیان حلقہ انتخاب شیخ محمد رفیع نے کیا تھا ۔ اجتماع سے پارٹی کے سینئر لیڈر اور رکن پارلیمان میاں الطا ف احمد اور ڈاکٹر ثمیر کول نے بھی خطاب کیا۔ بھاجپا حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ جواہر لعل نہرو سے لیکر آج تک میں مودی جیسا کوئی وزیر اعظم نہیں دیکھا جس کو مسلمانوں کی اتنی نفرت ہے۔ موصوف نے بحیثیت ایک وزیر اعظم یہ تک کہہ ڈالا کہ مسلمانوں ہندو خواتین کے منگل سوتر لے جائیںگے، جس کے دو گھر ہونگے ایک مسلمان لے کر جائے گا، مسلمان زیادہ بچے پیدا کرتے ہیں ۔ یہ ریمارکس ملک کے وزیر اعظم کے عہدے کیلئے توہین کے مترادف تھے۔ انہوں نے کہاکہ حقیری سیاسی مفادات کیلئے کی گئی اسی مذہبی منافرت کے نتیجے میںآج ملک کے مسلمانوں کیساتھ ظالمانہ سلوک کیا جارہاہے، ہم آئے روز دیکھتے ہیں کہ کس طرح سے مساجد پر حملے ہورہے ہیں، کیسے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جارہاہے، کیسے باریش مسلمانوںکو تشدد کا نشانہ بنا یا جارہاہے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ جموںوکشمیر کو دفعہ370سے خصوصی پوزیشن حاصل تھی جس کے ذریعے یہاں کی نوکریوں پر صرف یہاں کے نوجوانوں کا حق تھا، یہاں کی زمینوں پر صرف یہاں کے پشتینی باشندوں کا حق تھا اور یہاں ہمارا اپنا آئین ، جو ان کو اس لئے راس نہیں آتاتھا کیونکہ یہ ایک مسلم اکثریتی ریاست تھی۔ ان لوگوں نے دفعہ370کو ختم کرنے کیلئے بندوق کا بہانہ لیا اور کہا کہ ملی ٹنسی دفعہ370کی بدولت ہے لیکن آج اس دفعہ کو گئے اب5سال سے بھی زیادہ عرصہ ہوگیا پھر اب اتنی بڑے پیمانے پر ملی ٹینٹ حملے کیسے ہورہے ہیں؟ یہ تو ہم پر الزام لگاتے تھے اب تو یہ لوگ یہاں گذشتہ10سال سے حکومت کررہے ہیں پھر حالات ٹھیک نہیں ہورہے ہیں؟ جموںمیں آئے روز کیوں انکاﺅنٹر اور حملے ہورہے ہیں۔ آج جموں والوں کو بھی احساس ہوگیا ہے کہ بھاجپا نے ہمارے ساتھ کیا کیا اور دفعہ370سے ہمیں کتنے مراعات حاصل تھے














