سرینگر:: جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا ہے کہ ایسے افراد یا گروہ جو ہندوستان کی سلامتی اور خودمختاری کےلئے خطرہ ہیں، مستقبل میں بھی پابندیوں میں رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کشمیر وادی میں پتھراو ¿ کے واقعات کو ختم کرنے میں کامیاب ہوئی ہے، جبکہ جموں و کشمیر میں دہشت گردی اور اس کے ماحولیاتی نظام کو ختم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے مزید کہا کہ میر واعظ عمر فاروق کی نقل و حرکت پر کوئی پابندی نہیں ہے، اور وہ کہیں بھی جانے کیلئے آزاد ہیں۔جے کے این ایس کے مطابق جمعرات کو جھیل ڈل کے کنارے پر واقع SKICCمیں نجی نیوز چینل انڈیاٹوڈے کے زیراہتمام ’آج تک کی پنچایت‘ سے خطاب کرتے ہو ئے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہاکہ میں اس بات کا اعادہ کرتا ہوں کہ میر واعظ عمر فاروق کی نقل و حرکت پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ ہاں، اگر میر واعظ عمر فاروق کو اپنی جان کو کوئی خطرہ محسوس ہوتا ہے اور سکیورٹی والے اسے اپنی نقل و حرکت محدود کرنے کا مشورہ دیتے ہیں، تو معاملہ الگ ہے۔ منوج سنہا نے کہاکہ میر واعظ عمر فاروق کو خود فیصلہ کرنا ہے کہ اسے باہر نکلنا چاہیے یا نہیں۔ اس پر تعینات سیکورٹی اہلکار کارروائی لے سکتے ہیں۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ساتھ ہی کہاکہ لیکن میری طرف سے کوئی پابندی نہیں ہے۔ یہ صرف میرواعظ کا معاملہ نہیں ہے۔انہوںنے دعویٰ کیاکہ حکومت نے جموں و کشمیر میں کسی مذہبی شخص یا سیاستدان پر پابندی نہیں لگائی ہے۔تاہم لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہانے مزید کہا کہ’پابندیاں ان افراد اور گروہوں پر برقرار رہیں گی جو ہندوستان کی سلامتی اور خودمختاری کےخلاف ہیں اور ایسی پابندیاں مستقبل میں بھی جاری رہیں گی‘۔ منوج سنہا نے کہا کہ جب سے آرٹیکل 370 کو منسوخ کیا گیا ہے، کشمیر میں پتھراو ¿ ماضی بن گیا ہے، جب کہ دہشت گردی اور اس کے ماحولیاتی نظام کو ختم کرنے کی کوششیں ایک ہیں۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہاکا کہناتھاکہ آرٹیکل370 کی منسوخی کے بعد پتھراو ¿ کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے، جبکہ دہشت گردی اب بھی چند علاقوں میں موجود ہے۔ انہوںنے کہاکہ سیکورٹی فورسز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات گاہے بگاہے رونما ہوتے رہتے ہیں۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہانے کہاکہپہلے کشمیر اور اسکی دہشت گردی ہندوستان کےلئے شدید تشویش کا باعث تھی۔منو ج سنہا نے کہاکہ جب میں نے لیفٹیننٹ گورنر جموں و کشمیر کے دفتر میں شمولیت اختیار کی تو حالات پر قابو پانا میرے لیے ایک چیلنج تھا۔ لیکن آج میں کہہ سکتا ہوں کہ جموں و کشمیر میں کوئی اعلیٰ عسکریت پسند کمانڈر زندہ نہیں ہے۔ سب مارے جا چکے ہیں۔ پتھراو ¿ ختم۔ دہشت گردی اور اس کے ماحولیاتی نظام کو ختم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ حکومت نے اس محاذ پر بہت کچھ حاصل کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ صرف ملی ٹنسی کا صفایا کرنے سے ہی معاملہ حل نہیں ہو سکتا، بلکہ اس کےلئے اچھی حکمت عملی تیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دہشت گردی اور اس کے ماحولیاتی نظام کا ہمیشہ کے لئے صفایا ہو سکے۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہاکاکہاتھاکہ صرف دہشت گردوں کے مارے جانے سے معاملہ حل نہیں ہو گا۔ اس کے ماحولیاتی نظام کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔انہوںنے کہاکہ گزشتہ چند سالوں میں مربوط کوششوں کی وجہ سے، ہم نے مقامی ملی ٹنٹوں کی بھرتی میں کمی دیکھی ہے۔منوج سنہا کاکہناتھاکہ ہمارے پڑوسی نے اپنے مذموم عزائم کو جاری رکھنے کےلئے جموں و کشمیر میں دراندازوں کو بھیجنا شروع کر دیا ہے۔ لیکن میں جموں و کشمیر اور ہندوستان کے لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ لوگ (درانداز) جہاں سے آئے ہیں انہیں واپس بھیج دیا جائے گا۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہاکہہم امن خریدنے میں یقین نہیں رکھتے، بلکہ یہ اب قائم ہو جائے گا۔














