سوموار کو وادی بھر میں بارشیں شروع ، درجہ حرارت میں کمی سے لوگوں نے لی راحت کی سانس
سرینگر/29جولائی/وی او آئی//اہلیان وادی کی اللہ کے حضور رحمت باراں کی دعائیں قبول ہر سوموار کی صبح وادی میں تین ماہ مسلسل خشک سالی کے بعد بارش ہوئی جس سے سخت گرمی سے لوگوں کو تھوڑی راحت نصیب ہوئی ہے ۔ وادی میںاتوار کو 36.2 ڈگری سیلسیس تک جا پہنچا تھا جس سے کشمیر میں جولائی کی تاریخ میں اب تک کا تیسرا بلند ترین درجہ حرارت ریکارڈ ہواتھا۔ ادھر سرینگر سمیت وادی کے دیگر اضلاع میں بھی سوموار سے کی صبح بارشوں کے نتیجے میں لوگوں نے راحت کی سانس لی ۔ ادھر محکمہ موسمیات نے 3اگست تک وادی کے میدانی اور بالائی علاقوں میں ہلکی سے درمیانہ درجے کی بارشوں کی پیش گوئی کی ہے جبکہ کئی ایک جگہوں پر بادل پھٹنے اور سیلابی صورتحال کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق رحمت باراں کے حق میں مساجد، خانقاہوں، آستانوں میں دعائیں اللہ تعلیٰ کے حضور پہنچتے ہی وادی میں سوموار کو بارش شروع ہوئی جس سے گرمی سے کشمیریوں کو بڑی راحت ملی ہے۔طویل ہیٹ ویو اور خشک موسم کے بعد کشمیر کے کچھ حصوں میں بارش ہوئی ہے جس کی وجہ سے درجہ حرارت میں کمی واقع ہوئی ہے۔موسم گرما کے دارالحکومت سمیت وادی کے دیگر حصوں میں پیر کو جاری ہیٹ ویو کے درمیان ہلکی تیز بارش ہوئی۔ بارش سے پارہ کم ہونے کا امکان ہے جو اتوار کو 36.2 ڈگری سیلسیس کو چھو گیا جس سے کشمیر میں جولائی کی تاریخ میں اب تک کا تیسرا بلند ترین درجہ حرارت ریکارڈ ہواتھا۔محکمہ موسمیات نے کشمیر میں شدید گرمی کی لہر سے کچھ راحت کی پیش گوئی کی ہے کیونکہ آسمان ابر آلود رہنے کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات کے حکام کا کہنا ہے کہ 7 اگست تک وقفے وقفے سے بارش کے امکانات ہیں۔ حکام نے کہا کہ 29 جولائی کو کشمیر ڈویژن کے کئی مقامات اور جموں ڈویژن کے بیشتر مقامات پر ہلکی سے درمیانی بارش/گرج چمک کے ساتھ وقفے وقفے سے موسم عام طور پر ابر آلود رہے گا۔محکمہ موسمیات نے کہا کہ 30-31 جولائی کو کشمیر ڈویژن کے کئی مقامات پر ہلکی سے درمیانے درجے کی بارش/گرج چمک کے ساتھ عام طور پر ابر آلود رہنے اور جموں ڈویژن کے وسیع مقامات پر بارش کی توقع ہے۔محکمہ موسمیات کے حکام نے کہا کہ 1 سے 7 اگست تک کشمیر ڈویژن اور جموں ڈویژن کے بیشتر مقامات پر وقفے وقفے سے ہلکی سے درمیانے درجے کی بارش/گرج چمک کے ساتھ عام طور پر ابر آلود رہنے کی توقع ہے۔ایک ایڈوائزری میں، محکمہ موسمیات نے کہا کہ جموں ڈویژن کے چند مقامات پر شدید بارش کے امکان کے ساتھ جموں و کشمیر کے خطرناک مقامات پر سیلاب/بادل پھٹنے/ لینڈ سلائیڈنگ/ مٹی کے تودے گرنے اور پتھرا¶ کے امکان کے ساتھ مختصر مدت کے لیے شدید بارش کا امکان ہےوہیں دوسری جانب جموں ڈویژن میں موسلادھار بارش کی وجہ سےذخائر آب کی سطح میں آب میں مسلسل اضافہ دیکھا جارہاہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران راجوری میں 88.4، جموں میں 64.4۔ کٹرا میں 21.6 ملی میٹر اور کٹھوعہ میں 20.8 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات نے پیر کو جموں ڈویژن کے دور درس مقامات پر ہلکی اور تیز بارش کی پیش گوئی کی ہے۔ دن بھر مطلع ابر آلود رہنے کے امکانات ہیں۔جہاں شمالی ہندوستان میں بارش نے تباہی مچا دی ہے وہیں وادی کشمیر میں اتوار کو کولگام کے قاضی گنڈ اور اننت ناگ کے کوکرناگ میں گرمی کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ قاضی گنڈ میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 35.6 ڈگری سیلسیس اور کوکرناگ میں 34.1 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔ جو اب تک کی سب سے زیادہ گرمی کا ریکارڈ ہے۔ ادھر سری نگر میں دن کا درجہ حرارت 36.2 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔ گزشتہ 78 سالوں میں یہ چوتھا گرم ترین دن تھا۔محکمہ موسمیات کے مطابق قاضی گنڈ میں 11 جولائی 1988 کو زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 34.5 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اسی طرح اس ماہ 3 جولائی کو کوکرناگ میں 33.3 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اس سے قبل 8 جولائی 1993 کو 33 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا تھا۔اس سے قبل سری نگر میں 10 جولائی 1946 کو 38.3 ڈگری درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اس کے بعد تیسری مرتبہ سب سے زیادہ درجہ حرارت 9 جولائی 1999 کو 37 ڈگری سینٹی گریڈ اور جولائی 1997 میں 36.6 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔












