نئی دلی/۔نائب صدرجمہوریہ جناب جگدیپ دھنکھڑ نے آج اس بات پر زور دیا کہ پارلیمنٹ کا بنیادی کردار آئین کا تحفظ اور جمہوریت کا تحفظ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جمہوریت کا خود ممبر پارلیمنٹ سے زیادہ سنجیدہ محافظ کوئی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں کوئی بحران ہو، جمہوری اقدار پر حملہ ہو تو آپ کا کردار فیصلہ کن ہوتا ہے۔آج پارلیمنٹ ہاؤس میں راجیہ سبھا کے نومنتخب ارکان کے لیے منعقدہ ایک تعارفی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے جناب دھنکھڑ نے زور دیکر کہا کہ پارلیمنٹ میں بحث کے لیے کوئی بھی موضوع محدود نہیں ہے بشرطیکہ مناسب طریقہ کار پر عمل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایوان کے طریقہ کار کے اصولوں کے مطابق مناسب طریقہ کار پر عمل کیا جائے تو کسی بھی موضوع، کسی بھی شخص، کسی بھی فرد بشمول چیئرمین کے طرز عمل پر بات کی جا سکتی ہے۔پارلیمنٹ کی خود مختاری اور اختیار پر زور دیتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے زور دیا کہ "پارلیمنٹ اپنے طریقہ کار کے لیے، اپنی کارروائی کے لیے اعلیٰ و ارفع ہے۔ ایوان میں، پارلیمنٹ میں کوئی بھی کارروائی، یا تو ایگزیکٹو یا کسی اور اتھارٹی سے باہر ہے”۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’پارلیمنٹ کے اندر جو کچھ بھی ہو، چیئرمین کے علاوہ کسی کو مداخلت کا اختیار نہیں ہے۔ یہ ایگزیکٹو یا کسی دوسرے ادارے کا نہیں ہو سکتا”۔جناب دھنکھڑ نے پارلیمنٹ میں ارکان کی طرف سے اپنائی گئی ہٹ اینڈ رن حکمت عملی پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا جہاں ایک رکن، پارلیمنٹ میں بولنے سے پہلے میڈیا کی توجہ حاصل کرتا ہے، پارلیمنٹ میں آتا ہے صرف توجہ حاصل کرنے اور میڈیا کی جگہ حاصل کرنے کے لیے بولتا ہے اور پھر دوسرے اراکین کی بات سنے بغیر ایوان سے چلا جاتا ہے۔ ایک بار پھر باہر جاکر میڈیا سے مخاطب ہوتا ہے۔ انہوں نے ممبران میں مسائل پر الجھنے کے بجائے ذاتی حملے کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان اور صرف چند افراد کو خوش کرنے کے لیے شور مچانے اور نعرے لگانے کے رجحان پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’اس سے بڑی تفرقہ انگیز سرگرمی کوئی اور نہیں ہوسکتی۔‘‘ایمرجنسی کو ہندوستانی جمہوریت کا ایک دردناک، دل دہلا دینے والا اور سیاہ ترین باب قرار دیتے ہوئے جناب دھنکھڑ نے زور دے کر کہا کہ اس دوران ہمارے آئین کو محض ایک کاغذ تک محدود کر دیا گیا تھا جس میں بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کی گئی تھی اور لیڈروں کو بلاجواز جیل بھیج دیا گیا تھا۔ جناب دھنکھڑ نے پارلیمنٹ کی مجموعی کارکردگی پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہماری پارلیمنٹ کے ارکان نے شروع سے ہی لوگوں کی حمایت میں کام کیا ہے اور ایمرجنسی کے دور کے علاوہ اس ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔













