نئی دلی/شواہد پر مبنی معلومات کے ذریعے صارفین اور شہریوں کو فوڈ سیفٹی کے مختلف مسائل پر بااختیار بنانا ضروری ہے۔ تب ہی ہمارا کام مکمل طور پر پورا ہو گا۔ صحت اور خاندانی بہبود کے مرکزی وزیر جناب جگت پرکاش نڈا نے آج فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی) ہیڈکوارٹر میں اپنی جائزہ میٹنگ کے دوران یہ بات کہی۔شہریوں کی بہبود میں فوڈ سیفٹی کے اہم کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے، انہوں نے اس کی اہمیت پر روشنی ڈالی اورایف ایس ایس اے آئی پر زور دیا کہ وہ صارفین، صنعت اور اسٹیک ہولڈرز کو نہ صرف ریگولیٹری مسائل بلکہ صحت مند کھانے کی عادات کو فروغ دینے کے لیے رویے میں تبدیلی کے بارے میں حساس بنائے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اگرچہ ریگولیٹری مسائل ایف ایس ایس اے آئی کا ایک اہم منشور ہیں، فوڈ سیفٹی کا مقصد صرف مواصلات اور صارفین کو فوڈ سیفٹی کے مختلف پہلوؤں پر حساس بنانے سے ہی پورا کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘‘ہندوستان جیسے بڑے ملک میں، مختلف خطوں میں مختلف غذائی عادات اور ترجیحات ہیں۔ آئیے ان کے طرز عمل کے بارے میں اپنی سمجھ کو وسیع کریں۔ اس سے ہمیں اپنی پالیسیوں کو ان تنوع کے ساتھ ہم آہنگ کرنے میں مدد ملے گی’’۔مرکزی وزیر صحت کو ایف ایس ایس اے آئی کے ذریعے اٹھائے گئے مختلف اقدامات کے بارے میں ایف ایس ایس اے آئی کے سی ای او جناب جی کملا وردھنا راؤ نے آگاہ کیا۔ عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے، جناب نڈا نے کہا کہ ‘‘2016 میں ایف ایس ایس اے آئی کے اپنے آخری دورے کے بعد سے، میں نے دیکھا ہے کہ ایف ایس ایس اے آئی نے تمام پہلوؤں میں بہت بڑی کامیابی حاصل کی ہے’’۔ انہوں نے اس ہمہ جہت ترقی پر اور فوڈ سیفٹی ایکو سسٹم کو مضبوط بنانے، رویے میں تبدیلی کو فروغ دینے، اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو حساس بنانے میں نمایاں پیش رفت دکھانے پر ایف ایس ایس اے آئی کو مبارکباد دی۔ جناب جے پی نڈا نے جوار اور کوڈیکس معیارات جیسے شعبوں میں ایف ایس ایس اے آئی کی قیادت کی بھی ستائش کی۔ انہوں نے اسٹریٹ وینڈرز کو تربیت دینے اور انہیں آراستہ کرنے کے ان کے اقدامات کو سراہتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ صارفین کو بااختیار بنانا بہت ضروری ہے۔ ’’ فوڈ سیفٹی کا مسئلہ ایف ایس ایس اے آئی پر ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ آئیے اس میدان میں عالمی رہنما بنیں۔ انہوں نے ملیٹس، جسے شری اَن کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، پر پیدا ہونے والی وسیع بیداری پر بھی ان کی تعریف کی۔مرکزی وزیر نے عالمی معیارات کو فروغ دینے، ایک مضبوط ٹیسٹنگ انفراسٹرکچر قائم کرنے اور ایٹ رائٹ انڈیا مہم جیسے اقدامات شروع کرنے میں ایف ایس ایس اے آئی کے تعاون پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے فوڈ سیفٹی کے ابھرتے ہوئے رجحانات سے نمٹنے، پائیدار کاشتکاری کے طریقوں کو فروغ دینے اور فوڈ سیفٹی مینجمنٹ کو بڑھانے کے لیے ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کی اہمیت پر زور دیا۔














