حال ہی میں امریکہ اور دیگر کئی یورپی ممالک نے بھارت کی دو مشہور مصالحہ جات بنانے والی ان کمپنیوں جن کے پروڈکٹس امریکہ اور دیگر یورپی ملکوں کو ایکسپورٹ کئے جارہے ہیں پر پابندی عاید کردی ۔اپنی اس کاروائی کو حق بجانب قرار دیتے ہوے امریکہ میں متعلقہ وزارت نے اس بارے میں جو سرکاری بیان جاری کیا نے بتایا کہ بھارت سے امریکہ بھیجے جانے والے مصالحہ جات میں کچھ ایسے اجزا کی ملاوٹ پائی گئی جو انتہائی مضر صحت قرار دی جاسکتی ہیں اور اس کے استعمال سے کینسر جیسی مہلک بیماری لگنے کے امکانات سے انکار نہیں کیا جاسکتاہے ۔چنانچہ جب یہ خبر یہاں پہنچی تو لوگ حیران و پریشان ہوگئے کیونکہ جن دو کمپنیوں کے پروڈکٹس پر پابندی عاید کردی گئی وہ اول درجے کی مصالحہ جات بنانے والی کمپنیاں ہیں اور یہاں یعنی وادی میں لوگ متذکرہ بالا کمپنیوں کے پروڈکٹس کو بغیر کسی چھان بین کے استعمال کرتے ہیں کیونکہ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ معروف کمپنیوں کے پروڈکٹس ہیں یہ کمپنیاں کسی بھی صورت میں ملاوٹ کی مرتکب نہیں ہوسکتی ہیں جبکہ امریکہ اور دیگر کئی یورپی ممالک نے ان کی پروڈکٹس کو ناقابل استعمال قرار دیا اور کہا کہ ان میں جن اجزا کو ملایا جاتا ہے وہ کینسر کا موجب بن سکتی ہیں ۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگ اب بااعتبار کمپنیوں کے پروڈکٹس کو بھی استعمال کرنے سے ہچکچانے لگے ہیں ۔اس دوران یہ خبر آئی ہے کہ کھانے پینے کی اشیاءمیں کیڑے مار ادویات کے استعمال پر سپریم کورٹ نے فوڈ سیفٹی اتھارٹی آف انڈیا کو نوٹس بھیجا ہے جس میں اس ادارے سے جواب طلب کیا گیا ہے ۔سپریم کورٹ نے اشیائے خورد ونوش اور فصلوں پر کیڑے مار دوائی اور دیگر کیمیائی ادویات کے حد سے زیادہ استعمال پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے ۔سپریم کورٹ کے بنچ نے وزارت ماحولیات جنگلات ،اور موسمیاتی تبدیلی ،صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت،وزارت زراعت اور فوڈ سیفٹی اتھارٹی آف انڈیا کو نوٹس بھیجا ہے ۔سپریم کورٹ کے ماہر ماحولیات اور وکیل مسٹر آکاش کی طرف سے دائیر درخواست کی عدالت سماعت کررہی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ کیڑے مار ادویات سے بھرے کھانے کا استعمال ملک میں کینسر اور دیگر مہلک بیماریا ں پھیلنے کا موجب بن رہی ہیں ۔درخواست میں کہا گیا تھا فصلوں اور کھانے پینے کی اشیاءپر کیڑے مار ادویات اور دیگر کیمیائی کیڑے مار ادویات کا زیادہ استعمال دالوں اور دیگر غذائی اجناس کو مصنوعی رنگ ،کوٹنگ ،اور ویکسنگ سے ملک بھر میں اموات کی شرح بڑھتی جارہی ہے ۔پیٹشن میں کہا گیا کہ کیڑے مار ادویات سے بھری خوراک کا استعمال ملک بھر میں کینسر اور دیگر مہلک بیماریوں کی بنیادی وجہ بن گئی ہے ۔درخواست گذار کی طرف سے پیش ہوتے ہوے سینئیر وکیل نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ ملک بھر سے جو ڈاٹا اکٹھا کیا گیا ہے جس میں کیڑے مار ادویات سے ہونے والی اموات کا تذکرہ کیا گیا ہے سپریم کورٹ میں وکیل نے بتایا کہ کیڑے مار ادویات کو روکنے اور ان پر قابو پانے اور خوراک کی حفاظت کو یقینی بنانے میں FSSAIناکام ہوئی ہے ۔کیڑے مار ادویات اور کینسر کے درمیان براہ راست سائینسی اور طبی تعلق ہے اور جس کی تعداد ملک میں بڑھتی جارہی ہے ۔













