لالچوک ، خانیار اور دیگر جگہوں پر 2فٹ سے زائد پانی جمع ہونے سے لوگوں کا عبور مرور دشوار
سرینگر/20فروری/اتوار کی صبح سے جاری بارشوں اور آج ہوئی برفباری کے نتیجے میں شہر سرینگر و دیگر اضلاع میں اہم رابتہ والی سڑکیں زیر آب آگئیں ۔ پانی کی نکاسی کےلئے بہتر انتظام نہ ہونے کی وجہ سے سڑکیں جھیلوں میں تبدیل ہوکے رہ گئیں جس کی وجہ سے لوگوں کو عبور و مرور میں کافی دشواریاں پیش آئی۔ ادھر شہر سرینگر کے قلب واقع لالچوک میں سڑک سے اوپر قریب 2فٹ پانی جمع تھا اور وہاں سے چلنے والی گاڑیاں جیسے دریا میں کشتیاں چل رہیں تھی۔وائس آف انڈیا کے مطابق گذشتہ دو روز سے وادی میں میں بارشوںاور برفباری نے انتظامیہ کے اُن دعوئے کو فریب اور سراب ثابت کردیا جن میں انتظامیہ بار بار یہ دعویٰ کرتی ہے کہ شہر اور دیگر قصبہ جات میں ڈرنیج سسٹم بہتر بنایا گیا ہے اور بارشوں کے پانی کی نکاسی کےلئے اقدامات اُٹھائے گئے ہیں ۔ سرینگر کے قلب واقع لالچوک کی سڑکیں آج جھیلوں میں تبدیل ہوکے رہ گئی۔ لالچوک ، ریگل چوک،مہاراجہ بازار، ریذیڈنسی روڑ، مولانا آزاد روڑ اور دیگر اہم سڑکوں پر پانی ایک سے 2فٹ جمع ہونے کی وجہ سے وہاں سے گزرنے والی گاڑیاں جیسے جھیلوں میں کشتیاں چل رہی تھیں ۔ اگرچہ چند ایک جگہوں پر پانی کی نکاسی کےلئے موٹر لاگئے گئے تھے تاہم پانی کے آگے وہ ناکافی تھے۔ ادھر سرینگر کے خانیار چوک میں پانی 2سے زائد جمع تھا جس کی وجہ سے وہاں سے گزرنے والی گاڑیوں اور موٹر سائکل سواروں کو کافی مشکلات پیش آرہی تھیں۔ پانی کی نکاسی کےلئے کوئی معقول انتظام نہ کرنے پر مقامی لوگوں نے میونسپلٹی کے متعلقہ ذمہ داروں کے خلاف سخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ معمولی بارشوں سے ہی خانیار کی سڑکیں سمندر وں کی شکل اختیار کرتی ہے ۔ ادھر سرینگر، اننت ناگ شاہراہ پر بھی برف اور بارش کا پانی جمع ہونے کی وجہ سے سڑکوں سے لوگوں کا عبور و مرور دشوار بن گیا ۔ جبکہ سرینگر بارہمولہ شاہراہ پر بھی کئی جگہوں پر کافی پانی جمع ہونے کی وجہ سے وہاں سے گزرنے والی گاڑیوں کو چلنے پھرنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ادھر بمنہ کی مختلف کالنیوں کے مکینوں نے بھی سی این آئی کو فون پر بتایا کہ بمنہ کی اکثر کالونیوں کی سڑکیں زیر آب آگئی ہے اور لوگوں کا گھرو ں سے باہر نکلنا بھی دشوار بن گیا ہے درجنوں مکانوں میںبارش اور برف کا پانی گھس گیا ہے جس کے نتیجے میں وہاں سیلابی صورتحال پیدا ہوئی ہے ۔













