نئی دہلی، 26 اکتوبر (یو این آئی) ہندوستان تپ دق- ٹی بی کے خاتمے پر فوری توجہ دینے کی اپیل کرتے ہوئے منگل کو کہا کہ اس سمت میں تمام کوششوں کے نتائج کورونا وبا کے سبب الٹ گئے ہیں۔ صحت اور خاندانی بہبود کی مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر بھارتی پروین پوار نے تجدید شدہ ٹی بی رسپانس کے لئے ڈبلیو ایچ او سیئر اعلیٰ سطحی میٹنگ کے افتتاحی اجلاس سے آج خطاب کیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر مملکت نے اس حقیقت پر زور دیا کہ جنوب مشرقی ایشیائی خطے میں تمام 6 خطوں میں ٹی بی کی بیماری کا سب سے زیادہ بوجھ ہے ۔ انہوں نے کہا “یہ صدیوں سے اموات کا بڑا وسیلہ رہا ہے اور ایک چھوت والی بیماری سے اموات کا دنیا کی سب سے بڑی وجہ کے طور پر ایچ آئی وی / ایڈس کو پار کر گیا ہے ۔ یہ اموات ،اکثر اقتصادی طور پر 15 سے 45 سال کے پیداواری عمر کے گروپ میں نوجوان بالغوں کے مابین ہوتی ہیں، جس کے نتیجے میں وسیع اقتصادی اور سماجی نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ زندگیوں، پیسے اور ختم ہونے والے کام کے دنوں کے ضمن میں اکیلی ٹی بی کا اقتصادی بوجھ انتہائی زیادہ ہے ”۔ٹی بی پر کووڈ 19 کے اثر کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا “دنیا نے 2020 میں کووڈ 19 وبا کو ابھرتے ہوئے دیکھا، جس میں انسانی زندگیوں، معیشتوں اور صحت کے نظاموں کو تباہ کر کے رکھ دیا۔ صرف چند ماہ میں ہی اس وبا نے ٹی بی کے خلاف کی گئی سالوں کی پیش رفت کو پس پشت ڈال دیا”۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ البتہ اس وبا نے ہمیں بہت سے سبق بھی دیئے ہیں، جو ٹی بی کے خاتمے کے لئے ہماری کوششوں میں مدد گار ثابت ہوں گے ۔














