2دہشت پسند اورایک فوجی ہلاک،ہلاکتوں کی تعداد7ہوگئی
مہلوکین میں اعلیٰ تربیت یافتہ لشکر کمانڈرقادری بھی شامل ،پورے جنگل میں تلاشی جاری:دفاعی ترجمان
سری نگر/راجوری ضلع کے کالاکوٹ علاقے میں باجی مال کے گھنے جنگلات میں بدھ سے جاری خونین معرکہ آرائی میں جمعرات کو2ملی ٹنٹوں اورمزید ایک فوجی جوان کی ہلاکت کے بعد مرنے والوں کی تعداد7 ہو گئی، جبکہ بدھ کو یہاں فوج کے2افسراورجواں مارے گئے تھے ۔جے کے این ایس کے مطابق فوج کی وائٹ نائٹ کور نے ایک ٹویٹ میں کہاکہ خاص انٹیلی جنس کی بنیاد پر، گلاب گڑھ جنگل راجوری کے کالاکوٹ علاقے میں مشترکہ آپریشن شروع کیا گیا۔دفاعی ذرائع نے بتایاکہ جمعرات کی صبح گھنے جنگل میں دہشت گردوں اورفوج کے درمیان دوبارہ جھڑپ شروع ہوئی جبکہ بدھ کو ہوئی ہلاکتوں کے بعداس پورے علاقے کو سیکورٹی فورسزنے محاصرے میں لے لیاتھا،اورمزیدکمک طلب کی تھی جبکہ فوجی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اس پورے جنگلی علاقے کی نگرانی کی جارہی تھی ۔ذرائع کے مطابق جمعرات کی صبح تازہ رابطہ قائم ہوا، جس کے بعد فائرنگ کا شدید تباد لہ شروع ہوگیا۔انہوںنے مزیدکہاکہ مزید سیکورٹی کالموں کو جائے وقوعہ پر منتقل کر دیا گیا ، یہاں تک کہ ہیلی کاپٹروں کو بھی پھنسے ہوئے دہشت گردووں کو تلاش کرنے کے لئے استعمال کیا گیا۔دفاعی ذرائع نے بتایاکہ جمعرات کو شدیدجھڑپ کے دوران لشکر طیبہ سے وابستہ2دہشت گرد ہلاک ہوگئے ،جن میں پاکستان اورافغانستان میں تربیت یافتہ ایک دہشت گردبھی شامل ہے ۔انہوںنے کہاکہ بدھ کو زخمی ہونے والا ایک فوجی جوان جمعرات کودم توڑ گیا، جس سے انکاو ¿نٹر میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد5ہو گئی،جن میں فوج کے2کیپٹن بھی شامل ہیں ۔ جموں میں مقیم دفاعی ترجمان نے کہا کہ مہلوکین میں سے ایک کی شناخت پاکستانی شہری کے طور پر کی گئی ہے، جسے خطے میں دہشت گردی کو بحال کرنے کا کام سونپا گیا تھا۔ترجمان نے کہاکہ اسے پاکستان اور افغانستان محاذ پر تربیت دی گئی ہے۔ وہ لشکر طیبہ کا ایک اعلیٰ درجہ کا دہشت گرد لیڈر ہے۔ترجمان نے مزید کہاکہ وہ گزشتہ ایک سال سے اپنے گروپ کے ساتھ راجوری پونچھ میں سرگرم ہے۔ اسے ڈنگری اور کنڈی حملوں کا ماسٹر مائنڈ بھی سمجھا جاتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ لشکرکمانڈر قاری کو خطے میں دہشت گردی کی بحالی کے لیے بھیجا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ آئی ای ڈی کا ماہر ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ وہ غاروں سے کام کرنے اور چھپنے اور ایک تربیت یافتہ اسنائپر ہے۔سیکورٹی ذرائع نے بتایاکہ ابھی اس پورے علاقے کو محاصرے میں رکھاگیا ہے ،اوراس آپریشن کیلئے ہیلی کاپٹروں کو بھی استعمال کیا جاراہے ۔














