سری نگر/ کانگریس کے سباق صدر راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ سر زمین لداخ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے لکین ان سے یہ زمین چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مہاتما گاندھی کے نظریات لداخ کے لوگوں کے خون میں رواں دواں ہیں۔موصوف سابق صدر نے ان باتوں کا اظہار جمعہ کے روز کرگل میں ایک اجتماع سے اپنے خطاب کے دوران کیا۔انہوں نے کہا: ‘گاندھی جی اور کانگریس پارٹی کے نظریات لداخ کے لوگوں کے خون اور ڈی این اے میں ہیں جو بھی مجھے یہاں ملک کی دوسری ریاستوں کے مزدور ملے انہوں مجھے کہا کہ لداخ ہمارا دوسرا گھر ہے’۔مسٹر گاندھی نے کہا: ‘مجھے دورے کے دوران بتایا کہ کہ ہمیں نمائندگی نہیں دی جار ہی ہے، ہماری آواز کو دیا جا رہا ہے، روز گار کے جو وعدے کئے گئے ان کو پورا نہیں کیا گیا اور یہاں سیول فون کی کوریج یا کمیونیکیشن کا نظام نہیں ہے’۔انہوں نے کہا: ‘کانگریس پارٹی لداخ کے لوگوں کے ساتھ کھڑی ہے چاہئے وہ زمین کا معاملہ ہو، روزگار کا معاملہ ہو یا ثقافت کا معاملہ ہو’۔کانگریس کے سینئر لیڈر نے کہا کہ لداخ کی سرزمین قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔انہوں نے کہا: ‘لداخ وسائل سے مالا مال ہے آج جو شمسی توانائی کی بات کی جا رہی ہے یہاں اس کی بھی کوئی کمی نہیں ہے’۔ان کا کہنا تھا: ‘لیکن بی جے پی آپ سے وہ چھیننا چاہتی ہے جس کو ہم نہیں ہونے دیں گے’۔راہل گاندھی نے کہا کہ جو ہم نے بھارت جوڑو یاترا کی تھی اس کا ہدف ملک میں بھائی چارے کے پیغام کو پھیلانا تھا۔انہوں نے کہا: ‘اس یاترا کو سری نگر میں ہی نہیں رکنا تھا بلکہ لداخ میں بھی آنا تھا لیکن سردی کی وجہ سے نہیں آسکی اور انتظامیہ نے بھی منع کیا’۔ان کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ چین نے لداخ میں زمین پر قبضہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ چین نے ہندوستان کی ہزاروں کلومیٹر زمین چھین لی ہے۔ وزیر اعظم اس کی تردید کر کے جھوٹ بول رہے ہیں، یہ لداخ کا ہر شخص جانتا ہے۔مسٹر گاندھی نے کہا، "لداخ کے اہم مسائل ہیں- یہاں کے لوگوں کی سیاسی آواز کو دبایا جا رہا ہے، روزگار کے لیے حکومت کے تمام وعدے جھوٹے نکلے۔ موبائل نیٹ ورک اور فضائی سہولت کی کمی۔ عوام کی سیاسی آوازکو نہٰن سنا جاتا ہے اور سیاستدانوں کی آواز کو دبایا جا رہا ہے۔ لداخ کو مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنا دیا گیا ہے لیکن لوگوں کو ان کے حقوق نہیں دیے جا رہے ہیں۔ سیل فون، لیکن نیٹ ورک نہیں۔ ایک پورٹ ہے، لیکن ہوائی پرواز نہیں ہے۔ اس طرح لداخ کے لوگوں کے حقوق چھینے جا رہے ہیں۔کانگریس لیڈر نے کہا، ‘ان تمام مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھائیں گے۔ اس سفر میں پرتپاک استقبال اور محبت کے لیے لداخ کا بہت بہت شکریہ۔












