سرکاری سکولوں کی کارکردگی میں کافی بہتری آئی ہے ۔ آلوک کمار
کمشنر سیکریٹری تعلیم نے کہا ہے کہ سرکاری سکولوں کے معیار کو بہتر بنایا گیا ہے اور بارہویں جماعت کے امتحانی نتائج میں سرکاری سکولوں کی کارکردگی حوصلہ افزارہی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ سکولوں میں کتابوں کی دستیابی کو یقینی بنانے کےلئے ہر ممکن اقدامات اُٹھائے جائیں گے ۔ نئی تعلیمی پالیسی کووقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے انہوںنے بارہویں جماعت کے سالانہ امتحان کومثبت قرار دیتے ہوئے ناکام امیدواروں سے تلقین کی کہ وہ اپنے آپ کو تنہا تصور نہ کریں بلکہ سماج آپ کے ساتھ ہیں آپ آگے بڑھیں اور محنت و لگن سے کامیابی ضروری حاصل ہوگی ۔ نئی تعلیمی پالیسی کو طلبہ کے مستقبل کے لئے انتہائی مفید قرار دیتے ہوئے تعلیم کے کمشنرسیکریٹری آلوک کمار نے کہاکہ جموں وکشمیرمیں ملک کے دیگر حصوں کے طرز پر تعلیمی نظام چلایا جائے گا۔انہوں کہاکہ اسکولوں میںدرسی کتب میں تاخیر پرنٹنگ مواد مہنگا ہونے کی وجہ سے ہو ا ہے جنہیں دور کیاگیا۔ پرنسپل سیکریٹری نے کہا کہ بارہویں جماعت کے جوسالانہ امتحان منظرعام پرآئے ہےںوہ اطمنان بخش ہے 65%طلبہ کامیاب قرار دیئے گئے او ر35%ناکام رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ وقت پر نتائج سامنے لائے گئے اورطلبہ کووقت ملے گاکہ وہ درس د تدریس کاکام پھر سے شروع کریں۔انہوںنے ناکام ہونے والی امیدواروں سے تلقین کی ان کی سہولیت کے لئے اقدامات اٹھائے گئے ہےں وہ محنت کریں او راپنی منزل کوپالےں ۔یونیورسٹی کامن ٹیسٹ کی ذکرکرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کی جانب سے جب جموںو کشمیرکے طلبہ کے لئے امتحانی سینٹرمکمل مختلف علاقوں میں قائم کئے گئے ہیں۔جموںو کشمیرکے ایل جی منوج سنہا نے مرکزی وزیر تعلیم کے ساتھ رابطہ قائم کیاکئی دنوں تک امتحان کوموخرکیاگیااور 99%امتحانی سینٹروںکاقیام جموںو کشمیرمیں رکھاگیا ۔انہوںنے کہاکہ 65ہزار کے قریب کامن یونیورسٹی سینٹر امتحان میں شمولیت کی اور کمپوٹروں امتحانی سینٹروں کاقیام عمل میں لاناکار ڈر والامعاملہ ہے جنگی بنیادوںپراقدامات اٹھائے گئے اگرکوئی امتحانی سینٹرباہر قائم ہوا ہے اسے بھی تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔














