محکمہ نے نظریں پھیر لیں ،بیوپاریوں نے بائع ۔مشتری معاملہ قرار دیا ،صارفین دم بخود
سرینگر// حکومت کی جانب سے گوشت کے کاروبار کو ڈی کنٹرول کئے جانے کے بعد اگرچہ قصابوں اور کوٹھدار یونین نے ازخود گوشت کی مارکیٹ نرخیں مقرر کی ہیں تاہم قربانی جانوروں سے متعلق قیمتیں متعین کرنے میں کسی دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کیا جارہا ہے ۔اس دوران محکمہ امورصارفین وعوامی تقسیم کاری ،جس کے ہاتھوں سے اس سارے نظام کو واپس لیا گیا ،بھی سارے معاملے سے بے رخی اپنائے ہوئے ہیں ۔عام صارفین کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے متعلقہ محکمہ نے ابھی تک سرکار کے ساتھ اتنے بڑے فیصلے پر کوئی بھی Representationنہیں کی ہے ۔معوم ہوا ہے کہ کشمیر میں قربانی جانوروں کی درآمد شروع ہوگئی ہے جبکہ کئی مقامات پر عام لوگوں نے قربانی جانوروں کی خریداری بھی شروع کی ہے ۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق اب قربانی جانور فروخت کرنے والے من مانے طرےقے سے لوگوں کو یہ جانور فروخت کررہے ہیں اور اس بار کوئی مول تول بھی نہیں ہورہا ہے ۔محمد عاصم نامی شہری نے خبر رساں ایجنسی ٹی ای این کو بتایا کہ انہوں نے سرینگر بائی پاس پر قربانی کا جانور خریدنے کی کوشش کی لیکن متعلقہ تاجر نے عدد کے حساب سے اندازا ایک قیمت بتائی جوکہ نہ کسی وزن اور نہ ہی جانور کی صحت کے لحاظ سے موزوں تھی ۔انہوں نے کہاکہ تاجر نے انہیں یہ بھیڑ وزن کرنے کی بھی اجازت نہیں دی اور کہاکہ آپ کو عدد کے حساب سے اس قیمت پر جانور خریدنا ہے تو ٹھیک بصورت دیگر آپ کہیں اور جائیے ۔یہی شکایات دیگر علاقوں سے بھی موصول ہونے لگی ہیں ۔واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے گوشت کے کاروبار کو ڈی کنٹرول کردیا گیا ہے اور اب گوشت کی قیمتوں کا تعین مارکیٹ سے ہی ہوگا تاہم بیوپاریوں نے ازخود650روپے فی کلو (بغیر اوجڑی ) قیمتیں مقرر کی ہیں اور قصابوں سے تلقین کی ہے کہ وہ اسی قیمت پر گوشت فروضت کریں ۔بیوپاریون کی جانب سے مقرر کردہ نرخوں پر آگے کتنا عمل درآمد ہوگا ،اس بارے میں چند دنوں میں رپورٹیں منظر عام پر آئیں گی لیکن اب آنے والی عید قربان کے لئے جانوروں کی خرید و فروخت کے معاملے پر ہلچل شروع ہونے والی ہے ۔واضح رہے کہ گذشتہ برس حکومت نے قربانی جانوروں کی نرخیں320روپے فی کلو مقرر کی تھیں ،اس وقت وادی میں گوشت کی سرکاری قیمت 530روپے فی کلو مقرر تھی ۔اس دوران گوشت کاروبار سے وابستہ طبقوں کا کہنا ہے کہ اب چونکہ گوشت ڈی کنٹرول ہوچکا ہے لہٰذا قربانی جانوروں کی کوئی قیمت بھی مختص نہیں کی جاسکتی ہے ۔یہ بائع اور مشتری کے درمیان کا معاملہ ہوگا کیونکہ یہ زندہ جانوروں کی خرید وفروخت کا معاملہ ہے ۔تاہم بیوپاریوں کا ماننا ہے کہ مارکیٹ کے موجودہ رجحان کے تحت قربانی جانوروں کی نرخیں بھی معمول سے کم ہی ہونگی کیونکہ اس وقت قربانی جانوروں کی وافر تعداد یہاں درآمد ہورہی ہے ۔بکروالوں اور بھیڑ پروری سے وابستہ طبقے بھی اس وقت وادی سے گذر کر چراگاہوں کی طرف جارہے ہیں اس لئے قیمتو ں کا اچھال ممکن نظر نہیں آرہا ہے۔ہول سیل مٹن ڈیلرس یونین کے صدر معراج الدین گنائی نے ٹی ای این کو بتایا کہ کووڈ 19کی ابتداءسے کشمیر میں قربانی کے رجحان میں قدرے کمی واقع ہوئی ہے ۔لوگوں میں بھی اتنی زیادہ مالی حیثیت نہیں رہی ہے ۔معراج الدین کے مطابق قربانی جانوروں کی قیمتوں کا تعین بائع اور مشتری کی صوابدید پر ہی چھوڑا جانا چاہئے کیونکہ یہ صرف ایک مالی لین نہیں بلکہ اس میں ایک مذہبی عقیدے کا معاملہ بھی ہے ۔لہٰذا اس بار قربانی جانوروں کی قیمتوں کا تعین بھی مارکیٹ پر ہی چھوڑا جانا چاہئے














