سال 1990میں میر واعظ کشمیر مولوی فاروق کے قتل کیس میں ابھی تک مفرور دو مزید ملزموں کو سٹیٹ تحقیقاتی ایجنسی نے گرفتار کرکے انہیں سی بی آئی کے حوالہ کر دیا ہے کا دعویٰ کرتے ہوئے اسپیشل ڈی جی پی سی آئی ڈی آر آر سوین نے کہا کہ قتل میں 5 عسکریت پسند ملوث تھے اور تمام ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائیگا ۔ پولیس کنٹرول روم سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسپیشل ڈی جی پی سی آئی ڈی آر آر سوین نے کہا کہ ریاستی تحقیقاتی ایجنسی نے میر واعظ مولوی فاروق کے قتل میں ملوث دو عسکریت پسندوں کو گرفتار کیا ہے۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس قتل میںملوث پانچ ملزمان میں سے دو عبداللہ بنگرو اور رحمان شیگن جھڑپوں میں مارے گئے تھے اور وہ مقدمے کا سامنا نہیں کر سکے تھے جب کہ ایوب ڈار پر مقدمہ چلا اور انہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی، جو اس وقت سرینگر سینٹرل جیل میں سزا کاٹ رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پانچ میں سے دو ابھی تک مفرور تھے جن میں جاوید بٹ اور ظہور بٹ اور انہیں بھی اب گرفتار کر لیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر پولیس کی خصوصی ٹیم ایس آئی اے نے یہ کارروائی انجام دیتے ہوئے حزب المجاہدین کے دو عسکریت پسندوں جاوید احمد بٹ عرف اجمل خان ولد مرحوم حبیب اللہ بٹ ساکنہ سولنہ حال آزاد بستی نٹی پورہ سرینگر اور ظہور احمد بٹ عرف بلال ولد مرحوم محمد رمضان بٹ ساکنہ داندر کھاہ بٹہ مولو سرینگر جو 21 مئی 1990 کو میر واعظ کو قتل کرنے کے بعد مفرور تھے۔ دونوں زیر زمین چلے گئے تھے اور ان تمام سالوں کے دوران مختلف مقامات پر نیپال اور پاکستان کے علاوہ دیگر مقامات پر چھپے رہے اور کچھ سال قبل خفیہ طور پر کشمیر واپس لوٹے۔انہوں نے مزید کہا کہ دونوں کی گرفتاری عمل میں لاکر انہیں سی بی آئی کے حوالہ کر دیا گیا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ سی بی آئی کیس RC0501990S008 (میرواعظ فاروق کے قتل سے متعلق) کے ملزمان اب دہلی کی ایک نامزد ٹاڈا عدالت میں فوری طور پر مقدمے کا سامنا کرنے کے ذمہ دار ہیں جس نے پانچ ملزمان میں سے ایک کے سلسلے میں مقدمے کی سماعت پہلے ہی مکمل کر لی ہے ۔ انہوںنے مزید کہا کہ 21مئی 1990کو میر واعظ کشمیر مولوی فاروق کو حزب المجاہدین کے ملی ٹنٹوں نے ہلاک کر دیا جس کے بعد ایک کیس زیر آیف آئی آر نمبر 61/1990پولیس اسٹیشن نگین، سری نگر میں جرم کی تحقیقات کے لیے درج کیا گیا۔ اس کے بعد اس دن کی حکومت نے 11 جون 1990 کو تحقیقات سی بی آئی کو منتقل کر دی۔














