نئی دہلی/ہندوستان نے تشدد سے متاثرہ سوڈان میں پھنسے ہوئے ہندوستانیوں کو نکالنے کے لیے آپریشن کاویری کا آغاز کیاہے۔ہندوستان نے تشدد سے متاثرہ سوڈان سے اپنے شہریوں کو نکالنے کے لیے آپریشن شروع کیا ہے۔ ریسکیو آپریشن کو آپریشن کاویری کا نام دیا گیا ہے۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ آپریشن کاویری جاری ہے اور تقریباً 500 ہندوستانی پیر کو پورٹ سوڈان پہنچے ہیں۔سوڈان میں پھنسے ہوئے ہمارے شہریوں کو واپس لانے کے لیے آپریشن کاویری جاری ہے۔ تقریباً 500 ہندوستانی پورٹ سوڈان پہنچ چکے ہیں۔ مزید راستے میں ہیں۔ ہمارے بحری جہاز اور ہوائی جہاز انہیں وطن واپس لانے کے لیے تیار ہیں۔ سوڈان میں اپنے تمام بھائیوں کی مدد کے لیے پرعزم ہیں۔آپریشن کاویری اسی مہم کا حصہ ہے جس کے تحت گزشتہ برسوں میں ہندوستانیوں اور دوست ممالک کے شہریوں کو افغانستان اور یوکرین جیسے جنگی علاقوں سے بچانے کے لیے کیا گیا ہے۔انخلاءکی کارروائی ایک دن بعد شروع کی گئی جب وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ دو C-130s طیارے اور بحریہ کا جہاز INS Sumedha پھنسے ہوئے ہندوستانیوں کو بحفاظت نکالنے کے لیے تیار ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سوڈان میں ہندوستانیوں کی تعداد تقریباً 4000 ہے۔یہ انخلائ بھی ایس جے شنکر کے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں اپنے ہم منصبوں کے ساتھ بات چیت کے چند دن بعد ہوا ہے۔ دونوں ممالک نے زمین پر عملی تعاون کا یقین دلایا تھا۔سوڈان میں فوج اور پیرا ملٹری ریپڈ سپورٹ فورسز ملک بھر میں اقتدارکی مہلک لڑائی لڑ رہےہیں۔ یہ تشدد مطلق العنان عمر البشیر کے خاتمے کے چار سال بعد اور فوجی بغاوت کے دو سال بعد ایک نئی سویلین حکومت کی تشکیل کے بین الاقوامی سطح پر حمایت یافتہ منصوبے پر اختلاف کی وجہ سے ہوا تھا۔ دونوں فریق ایک دوسرے پر منتقلی کو ناکام بنانے کا الزام لگاتے ہیں۔














