لواحقین نے پریس کالونی سرینگر میں جموںو کشمیر انتظامی سے مداخلت کی کی اپیل
سرینگر/ 06 اپریل / لدھیانہ پنجاب میں ہوٹل میں کام کرنے والاسرحدی ضلع کپوارہ کانوجوان پرُاسرار طور پرلاپتہ پنجاب پولیس کی جانب سے باز یاب نہ کرنے اور جانکاری فراہم نہ کرنے پرلواحقین نے پریس کالونی سرینگر میں احتجاجی مظاہرے کئے او رجموں وکشمیر انتظامیہ سے مطالبہ کیاکہ ان کے لخت جگر کوباز یاب کرنے کے لئے اپنااثر رسوخ استعمال کرے ۔ نمائندے کے مطابق پریس کولونی سرینگر میں سرحدی ضلع کپوارہ سے تعلق رکھنے والے کئی افراد نے احتیجاجی مظاہرے کئے اور احتجاج کرنے والوں کاکہناتھا،جبکہ 17فروری کوان کا لخت جگر لدھیانہ میں پرُاسرار طور پرلاپتہ ہوا ہر ممکنہ جگہ پرا سے تلاش کیاگیاتاہم اسکاکوئی سراغ نہیں ملا ۔لواحقین کے مطابق انہوںنے گمشدگی کی رپورٹ بھی لدھیانہ میں پولیس کے پاس درج کیاتاہم پنجاب پولیس کی جانب سے ان کے لخت جگر کوباز یاب کرنے یااس کے بارے میں انہیں کوئی جانکاری فراہم نہیں کی جاتی ہے ۔احتجاج کرنے والوں کے مطابق فردوس احمدپیر نے 15فروری کواپنی والدہ کے ساتھ فون پربات کی اسکے بعد اس کا رابطہ ٹوٹ گیا۔احتجاج کرنے والوں میں ان کے ایک نزدیکی رشتہ دا رنے کہاکہ وہ فردوس کوباز یاب کرنے کے سلسلے میں لدھیانہ گئے تھے وہاں کئی ہوٹل چلانے والوںنے انہیں یہ بتایاکہ اس کے سر میں زخم تھااور ان کابازوں ٹوٹاہواتھا۔ احتجاج کرنے والوں کے جموںو کشمیر انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنااثر رسوخ استعمال کرکے ان کے لخت جگر کوبازیاب کرنے انکے لئے آگے آئےں ۔














