دفعہ370کی بحالی کیلئے سپریم کورٹ میں ہمارا کیس مضبوط/عمر عبداللہ
نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے بدھ کے روز کہا کہ جموں وکشمیر میں اس وقت ایک تشویشناک صورتحال ہے، جہاں دیکھو ظلم، جہاں دیکھو دھوکہ، جہاں دیکھو ناانصافی۔ لوگوں کے ساتھ بڑے بڑے وعدے تو کئے جاتے ہیں لیکن ان وعدوں پر کہیں عمل نہیں ہوتانیز یہاںکے عوام پر ایک ایسا افسرشاہی نظام مسلط کیا گیا جن کا بس چلے تو یہاں کبھی الیکشن کا انعقاد ہی نہیں ہونے دیں گے۔ ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس کے ناب صدنے جنوبی کشمیرکے 3روزہ دورے کے دوسرے دن عوامی اجتماعات سے خطاب کے دوران کیا ۔عمر عبداللہ نے اپنے خطاب میں کہاکہ نیشنل کانفرنس نے جو تمام حلقہ انتخابات میں اپنے ورکروں کیساتھ ملاقات کا سلسلہ جاری رکھا ہے اس کا تعلق الیکشن کے ساتھ نہیں، الیکشن کب ہونگے، ہونگے بھی یا نہیں ہونگے ہمیں اس بارے میں کوئی معلوما ت نہیں ہیں۔ ہم ان اجتماعات کے ذریعے اپنے ورکروں سے کچھ سننے اور کچھ سننانے کیلئے آئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اگر بھاجپا والوں کو اس بات کا یقین ہوتا کہ جموںوکشمیر میں اُن کی پوزیشن اچھی ہے تو یہاں کب کے الیکشن منعقد ہوگئے ہوتے۔ ان لوگوں نے یہاں نئی حدبندی کروائی اور ان کو لگتا ہے وہ آگے نکل جائیں گے لیکن ایسا کچھ نہیں ہوگا، جس طرح سے ان کیلئے نئی دلی میں نئی حدبندی اور ریزرویشن کام نہیں آئی یہاں بھی ان کی حالت ویسی ہی ہوگی۔ 5اگست2019کے بعد نہ صرف کشمیر میں بلکہ جموں میں بھی لوگ اُن کیخلاف ہیں اور اس انتظار میں ہیں کہ کب موقعہ ملے گا کہ وہ اپنے ووٹ کے ذریعے اس ظلم کا حساب کتاب واپس لیں۔ این سی نائب صدر نے کہا کہ ابھی میرے ساتھی ڈاکٹر بشیر احمد ویری نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہماری سیکورٹی چھینی گئی، ہمارے رہائشی سہولیات واپس لی گئیں اور ہمیں کہیں آنے جانے کی اجازت نہیں، آخر ہم نے کیا گناہ کیاہے؟،”بشیر صاحب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ آپ کا گناہ کیا ہے، شائد اللہ کی نظروں میں آپ گنہگار نہیںلیکن حکمرانوں کی نظروں میں آپ سے بڑا گنہگار کوئی نہیں کیونکہ آپ اُن کی ہاں میں ہاں نہیں ملاتے ہیں، آپ نے جموںوکشمیر کے ساتھ 5اگست2019کو ہوئی ناانصافی، دھوکے اور لوٹ پر مہر نہیں لگائی، آپ نے اس اقدام کیخلاف عدالت میں مقدمہ کیا ہے، آپ ان کی تعریف نہیں کرتے ہیں، آپ لیفٹنٹ گورنر کے پاس چاپلوسی کرنے نہیں جاتے ہیں، آپ کو کیا سیکورٹی ملے گی؟اگر آپ کو سیکورٹی چاہئے تو اُن کیساتھ دوستی کرلیجئے آپ کو سیکورٹی مل جائیگی لیکن پھر لوگ آپ کیساتھ دوستی نہیں کریں گے۔آپ اے ٹیم، بی ٹیم یا سی ٹیم میں جاﺅ،آپ کو گاڑی، بنگلہ، سیکورٹی اور لیفٹنٹ گورنر سے تصویر کھنچوانے کا موقع بھی ملے گا، اب تو ای ٹیم بھی بن گئی ہے آپ وہاں بھی جاسکتے ہیں۔ لیکن اگر آپ کو لوگوں کا پیار چاہئے،آپ چاہتے ہیں لوگ آپ کی واقعی عزت کریں،تو پھر آپ ان چیزوں کے پیچھے مت بھاگئے، بچانے والا اللہ ہے، جب لوگ آپ کے ساتھ ہونگے اور آپ نے اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی سے تھاما ہوگا تو یہ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔“













