ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر نے کہا ہے کہ کوروناوائرس کے دور میں پہلے سے زیادہ فلو ویکسین لینا ضروری ہے ۔ جیسا کہ وادی کشمیر میں کووڈ 19کے مثبت معاملات میں پھر سے اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے اور فلو سیزن بھی شروع ہونے والا ہے اس لئے فلو ویکسین زیادہ ضروری ہے ۔ بیان کے مطابق ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر کے صدر ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا ہے کہ اس وقت جب وادی کشمیر میں کوروناوائرس کے مثبت معاملات میں پھر سے اضافہ ہونے لگا ہے فلو ویکسین لینا ضروری ہے کیوں کہ اس سے وائرس کا اثر کم ہوسکتا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ کووڈ معاملات میں اضافہ کے نتیجے میں ہسپتالوں پر اضافہ بوجھ پڑتا ہے اور اگر فلو کے مریض بھی بڑھیں گے تو اور زیادہ پریشانی ہوسکتی ہے ۔ ڈاک صدر کہا مزید کہنا ہے کہ سردیوں کے موسم میں کووڈ میں اور زیادہ اضافہ کا اندیشہ ہے اس لیے ضروری ہے کہ کووڈ متاثرہ افراد کے لیے ہسپتال کے وسائل کا تحفظ کیا جائے ،” انہوں نے کہا کہ ”فلو کی ویکسین ہمارے میڈیکل انفراسٹرکچر سے بڑا بوجھ کم کر سکتی ہے۔ اور اگر ہم لوگوں کو فلو سے دور رکھ سکتے ہیں تو ہم کووڈ انفیکشن میں ممکنہ اضافے سے بہتر طور پر نمٹ سکتے ہیں۔انہوںنے کہا کہ کووڈ سے متاثرہ افراد نے اگرچہ پہلے ہی ویکسین لیا ہوگا تو انہیں شدید بیماری سے زیادہ خطرہ نہیں رہے گا اور انہیں آئی سی یو اور وینٹی لیٹر سے بھی دور رکھے گا۔ انہوںنے کہاکہ موسم خزاں اور سردیوں میں فلو زیادہ اثر کرسکتا ہے اسلئے 6 ماہ اور اس سے زیادہ عمر کے ہر فرد کو سالانہ فلو کی ویکسین لگانی چاہیے جو اکتوبر میں شروع ہوتی ہے اور مئی کے آخر تک جاری رہ سکتی ہے۔ چونکہ فلو کی ویکسین کو مکمل طور پر موثر ہونے میں دو ہفتے لگتے ہیں ، اس لیے ابھی یہ ویکسین لینا بہتر ہے۔اگرچہ یہ ویکسین سب کے لیے تجویز کی جاتی ہے ، یہ خاص طور پر چھوٹے بچوں ، بوڑھوں ، حاملہ خواتین اور طبی حالات کے حامل افراد کے لیے ضروری ہے۔













