جموںوکشمیر کے ہر ایک پشتینی باشندے کو ووٹ پرچی کی طاقت، اہمیت اور افادیت کو سمجھنا ہوگا اور مستقبل میں جب کبھی بھی انتخابات کا انعقاد ہو اُس وقت اپنی حق رائے دہی کا استعمال کرکے اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ اس ریاست کی شناخت ،انفرادیت اور وجود قائم و دائم رہے اور ساتھ ہی موجودہ اور آنے والی نسلیں عزت کی زندگی گزار سکیں۔ ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے پارٹی ہیڈکوارٹر پر ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقعے پر پارٹی کے صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، ترجمانِ اعلیٰ تنویر صادق، جنوبی زون صدر جاوید احمد ڈار، ضلع صدر ڈاکٹر سجاد شفیع،سینئر لیڈر حاجی محمد اشرف گنائی ، مدثر شاہ میری اور انچارج کانسچونسی ارشاد رسول کار کے علاوہ بلاک صدور صاحبان اور ڈیلی حضرات بھی موجود تھے۔ اجلاس میں حلقہ انتخاب میں پارٹی پروگراموں، تنظیمی سرگرمیوں، لوگوں کے مسائل و مشکلات اور دیگر امورات کے بارے میں تبادلہ خیالات کیا گیا اور تمام شرکاءنے اپنی اپنی آراءپیش کرنے کے علاوہ پارٹی کی مضبوطی کیلئے مفید مشورے بھی پیش کئے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہاکہ نیشنل کانفرنس نے جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن کی بحالی کی جدوجہد سے انحراف نہیں کیا اور نہ مستقبل میں کریگی کیونکہ اسی میں ہماری ریاست کے وجود کا راز مضمر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپنے حقوق کی بحالی کیلئے ہم سب کو متحد ہوکر کام کرنا ہے اور گھر گھر جاکر لوگوں کو ہوشیار کرنا ہے۔ ہر کسی باشندے کو ووٹ پرچی کی طاقت ، اہمیت اور افادیت سے آگاہ کرنا ہے اور اس بات کی جانکاری دینا ہے کہ سپریم کورٹ میں جاری قانونی جنگ کیساتھ ساتھ ووٹ پرچی کے ذریعے ہی جموںوکشمیر کی خصوصی پوزیشن کی بحالی کیلئے جمہوری جدوجہد کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں جب کبھی بھی انتخابات ہونگے اُس وقت یہاں کے ہر ایک پشتینی باشندے کا گھر سے نکل کر اپنا ووٹ درج کرنا انتہائی ناگزیر بن گیا ہے اور اگر اس میں کسی بھی قسم کی غفلت شعاری اور کوتاہی سے کام لیا گیا تو اس کا براہ راست اثر ہمارے وجود اور آنے والے کل پر پڑے گا۔ عمر عبداللہ نے کہاکہ جموںوکشمیر کے لوگوں کی آواز کو تقسیم کرنے کیلئے آئے روز نئی جماعتوں کا معرض وجود میں آنا کوئی سمجھ سے بالاتر بات نہیں ہے اور لوگ ان تقسیمی حربوں کو جتنا جلد سمجھیں گے اُتناہی اس ریاست کے مستقبل کیلئے اچھا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی نیشنل کانفرنس کو کمزور کرنے کے حربے اپنائے جارہے ہیں اور یہ عمل دہائیوں سے جاری ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ جب جب نیشنل کانفرنس کمزور ہوئی اُس کا خمیازہ یہاں کے عوام کو بھگتنا پڑا اور 2014کے انتخابات اور اس کے بعد پیدا شدہ حالات اور خصوصی پوزیشن کا خاتمہ اس بات کی بخوبی عکاسی کرتا ہے۔













