پیپلز ڈیموکریٹک آزاد پارٹی فرقہ وارانہ بھائی چارے کو مضبوط بنانے کےلئے پر عزم ۔ غلام نبی آزاد
کانگریس کے سابق لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد نے کہا ہے کہ ہماری نئی پارٹی ڈیموکریٹک آزاد پارٹی کا انتخابی منشور ، کشمیری پنڈتون کی باعزت واپسی اور کشمیرمیں ان کی باز آباد کاری، یہاں کے لوگوں کے زمین و جائیداد کا تحفظ اور سرکاری نوکریں پر جموں کشمیر کے عوام کے حق ہونا چاہئے یہی ہماری پارٹی کا ایجنڈا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق جموں و کشمیر کو اسمبلی انتخابات کے انعقاد سے قبل ریاست کا درجہ بحال کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے۔ ڈیموکریٹک آزاد پارٹی (ڈی اے پی) کے چیئرپرسن غلام نبی آزاد نے پارٹی کے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ پارٹی کے لیے عوامی حمایت کو متحرک کرنے کے لیے ایک عوامی رابطہ پروگرام شروع کریں۔سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کی پارٹی فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور سماجی تانے بانے کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے کٹھوعہ میں ڈی اے پی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کی بحالی، مقامی لوگوں کے لیے زمین اور ملازمتوں کا تحفظ اور مہاجر کشمیری پنڈتوں کی واپسی اور بحالی ہماری پارٹی کا بنیادی ایجنڈا ہے“۔ ا±نہوں نے کہا کہ جموں بھر کے لوگ جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کرنے میں تاخیر پر پریشان ہیں۔ آزاد نے کہا کہ بی جے پی حکومت کو ریاست کی بحالی کے معاملے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ ہمیں اسمبلی انتخابات کے انعقاد سے پہلے اس کی واپسی کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے اپنے لوگ انتظامیہ کو چلا سکیں۔ا±نہوں نے کہا کہ ڈی اے پی تمام خطوں اور ذیلی علاقوں میں معاشرے کے ہر طبقے کی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ آزاد نے کہا پارٹی کیڈر کو لوگوں تک پہنچنا چاہیے اور ان کے مسائل کے حل میں ان کی مدد کرنی چاہیے۔ ہم لوگوں کو اچھی حکمرانی فراہم کرنے کے لیے ایک مضبوط محاذ پر کام کرنے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کی معیشت تباہی کے دہانے پر ہے۔ ا±نہوں نے مزید کہا کہ ہزاروں بے روزگار تعلیم یافتہ نوجوان نوکریوں کے مواقع کے منتظر ہیں لیکن صورتحال بہت خراب ہو گئی ہے۔غلام نبی آزاد نے کہاکہ جموں کشمیرمیں حالات اگرچہ کافی بہتر ہے تاہم ابھی بھی ایسے واقعات رونماءہورہے ہیں جس سے یہاںکے لوگوں میں عدم تحفظ پیدا ہوتا ہے ۔ آزاد نے کہا کہ ایل جی اور مرکزی سرکار کو چاہئے کہ کشمیری پنڈتوں کے مسائل کو فوری طور پرحل کریں اور ان کی باعزت واپسی کو یقینی بنائیں۔














