پولیس نے ملوث شخص کے خلاف کارروائی کی ، خراب سیبوں کو جلایا گیا۔ پولیس
سرینگر/پلوامہ میں ایک میوہ کاشتکار کی جانب سے احتجاج کے طور پر سیلاب جلائے جانے کے واقعے کے سلسلے میں پولیس نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے میں ملوث شخص کے خلاف کارروائی کی گئی ہے کیوں کہ اس نے یہ حربہ انتظامیہ کو بدنام کرنے کےلئے انجام دیا ہے ۔ پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ شخص جس کی شناخت فاروق احمد میر ساکن راجپورہ پلوامہ کے بطور ہوئی ہے میوہ تاجروں کا ایک ایجنٹ ہے جس نے رواں برس اب تک 13میوہ ٹرکوں میں 5424سیب کی پیٹیوں کو ایک تاجر گنشام داس، لکشمن داس دکان نمبر C-8 آزاد پور منڈی نئی دہلی کو مختلف چالان نمبر 786 کے ذریعے وادی سے باہر روانہ کیے ہیں۔ اسکے علاوہ اس نے لاسی پورہ میں سیب کے تقریباً 7000 کریٹس کو کولڈ سٹوریج کی مختلف سہولیات میں سٹور کر رکھا ہے۔ کل کی ویڈیو کے حوالے سے جو انہوں نے پچھر سیٹلائٹ فروٹ منڈی میں بنائی ہے جہاں ان کی سیب کی پیکنگ کی سہولت موجود ہے تقریباً 15 کارکن پیکنگ میں مصروف ہیں اور ملک کے مختلف حصوں میں نقل و حمل کے لیے مزید 500 سیب کے ڈبوں کو لوڈ کرنے کے لیے تیار ہیں۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ انتظامیہ کو بدنام کرنے والے شخص نے دراصل سڑے ہوئے سیبوں کو جلا کر ویڈیو میں پیش کیا ہے کہ اگر اس نے اپنی اصلی معیاری سیب کی فصل کو نہیں جلا دیا ہے۔ انتظامیہ کو بدنام کرنے کے لیے اس شخص کے بدنیتی پر مبنی ارادے کی چھان بین کی جا رہی ہے اور اس شخص کے خلاف قانون کے تحت سخت کارروائی کی جائے گی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ عوام الناس سے گزارش ہے کہ وہ ایسے کسی بھی مذموم عزائم پر کان نہ دھریں اور جو بھی ایسی افواہیں پھیلانے میں ملوث پایا گیا اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔














