سرینگر جموں شاہراہ کے مہر مقام پر پساں گرآنے سے میوہ بردار ٹرکیں پھنس چکی تھیں
اب تک 46ہزار مال بردار ٹرک وادی سے باہر بھیجی جاچکی ہیں جن میں 29ہزار سیب سے لدی ٹرکیں بھی تھیں
سرینگر//سرینگر جموں شاہراہ پر مال بردار خصوصاً میوہ بردار ٹرکوں کے درماندہ ہونے سے متعلق ڈویژنل کمشنر کشمیر نے کہا ہے کہ سرینگر جموں شاہراہ پر مہر کے مقام پر پساں اور چٹانیں گرآنے کے نتیجے میں مال بردار ٹرکیں پھنس گئیں تھیں تاہم شاہراہ کو قابل آمدورفت بنانے کی جی توڑ کوشش کی جارہی ہے اور قریب چار ہزار مال بردار درماندہ ٹرکوں کو اپنی منزل کی طرف روانہ کیا جارہا ہے ۔ ڈویژنل کمشنر پنڈورانگ کے پولے نے سوموار کے روز کہا کہ 46000 ٹرک اور ٹریلر قاضی گنڈ سے جموں کی طرف روانہ ہوئے ہیں جن میں 29000 سیب کی ٹرک ہیں جو یکم ستمبر سے 29395 تک متبادل دن کے قافلوں میں ہیں۔ صوبائی کمشنر نے زور دے کر کہا کہ کشمیر میں عام طور پر سیب کی پیداوار 17 میٹرک ٹن ہوتی ہے لیکن معقول بارش کی وجہ سے یہاں فصلوں میں اضافہ ہوا ہے اور یہ اس بار 21 میٹرک ٹن سے تجاوز کر جائے گی۔پی کے پولے نے کہا کہ بعض میوہ کاشتکاروں کی ایسوسی ایشن کی طرف سے میوہ کے ٹرکوں کو روکنے کا دعویٰ آدھا سچ ہے اور انہوں نے مزید کہا کہ قدرتی وجوہات ٹریفک میں رکاوٹ ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں بارش اور اس کے نتیجے میں پتھراو¿ کی وجہ سے شاہراہ پر ٹریفک کی نقل و حرکت میں مشکلات کا سامنا ہے لیکن یہ انسانی بس سے باہر ہے۔انہوں نے ان سے سری نگر جموں قومی شاہراہ پر بوجھ کم کرنے کے لیے متبادل مغل روڈ استعمال کرنے کی اپیل کی۔بتایا گیا کہ رام بن اور رامسو کے درمیان تقریباً 1500 ٹرک پھنس گئے ہیں کیونکہ مہرکے مقام پروقفے وقفے سے پتھراو¿ کی وجہ سے ٹریفک بہتر ڈھنگ سے رام بن سے آگے نہیں بڑھ سکا ہے جس کی وجہ سے ٹریفک درماندہ ہوچکا ہے ۔ ڈویژنل کمشنر نے مزید بتایا کہ آج دوپہر 12 بجے چیف سیکرٹری نے ایک جائزہ میٹنگ کی جس میں ڈی جی پی اور ٹریفک محکموں کے تمام افسران نے شرکت کی۔انہوں نے بتایا کہ انتظامیہ تمام تر کوششیں کر رہی ہے جبکہ وہ مغل روڈ کو کم از کم خالی گاڑیوں کے لیے استعمال کرنے کی اپیل کی جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت وادی سفر کرنے والی پیٹرولیم مصنوعات اور دیگر ضروریات سے تقریباً چار ہزار ٹرکیں جموں خطے میں پھنسی ہوئی ہیں جن کو وادی کی طرف جانے کےلئے سڑک کو کلیر کیا جارہا ہے اور مال بردار درماندہ ٹرکوں کی وجہ سے جو ٹریفک کا جماﺅ بڑھ گیا ہے اس کو دھیرے دھیرے کم کیا جارہا ہے تاکہ مسافر بردار گاڑیوں کو بھی آگے جانے کی اجازت دی جاسکے ۔














