سابق کانگریس لیڈڑ غلام نبی آزاد کا کہنا ہے کہ کانگریس نے مجھے دو سال تک گھر پر بٹھایا میں کہیں پارٹی میں تھا نہ انتخابی مہم میں ۔ میں پارٹی کی مدد کیسے کرسکتا تھا، گھر میں مزید زنگ لگنے سے بچنے کے لئے پارٹی بنانا ایک میری مجبوری ہے۔ انہوں نے کہاکہ بی جے پی کے وفادار سپاہی وہ ہیں جو کانگریس مکت بھارت کے لئے موی کی مدد کرتے ہیں، اُن کے مطابق دفعہ 370کسی کے لئے رکاوٹ نہیں تھا میں اپنے دور میں بہت ترقیاتی کام کئے اور 370کھبی رکاوٹ نہیں تھا مجھے نہیں معلوم کہ بی جے پی یہ کیوں کہتی ہے کہ یہ ایک رکاوٹ تھی میں نے کہا کہ الیکشن میں میرا ایجنڈا کیا ہواگا ۔ گپکار اتحاد سے متعلق آزاد نے کہاکہ میں کسی کے ساتھ بھی جا سکتا ہوں لیکن اس نعرے کو سمجھ نہیں سکتا جو ممکن نہیں ۔ لوگ اب بولنے، احتجاج کیوں نہیں کر پا رہے، اسکا مطلب کہ حالات خراب ہو گئے ہیں۔ قومی سطح پر وہ لوگ سیاسی جماعت لاسکتے ہیں جن کی ریڑھ کی ہڈی مضبوط ہو۔ اُن کے مطابق 370ی بحالی کرنے کا ایک اور طریقہ کار سپریم کورٹ ہے ۔ جہاں پچھلے تین سالوں سے دلیل اور تاریخ کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔ کیا کوئی لیڈر مجھے بتا سکتا ہے کہ وہ سپریم کورٹ میں پہلے کیس کی فہرست دے دسکتا ہے یا اس کے حق میں فیصلہ دے سکتا ہے تو ہم کیوں کہ اس دفعہ کو واپس لانے کا وعدہ کریں۔ انہوں نے کہاکہ لوگوں کو انصاف فراہم کرنے کی خاطر ہی میدان میں کود پڑا ہوا۔ا±ن کے مطابق سپریم کورٹ میں دفعہ 370کی منسوخی کے خلاف تین برس قبل عرضی دائر کی گئی لیکن ا±س پر آج تک شنوائی نہیں ہو سکی لہذا یہ کہنا کہ اس قانون کوواپس لایا جاسکتا ہے ہضم نہیں ہو رہا ہے۔انہوں نے سوالیہ انداز میں کہاکہ کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ سپریم کورٹ میں ایک ماہ کے بعد اس معاملے پر شنوائی ہوگی؟ا±ن کے مطابق سپریم کورٹ نے تو عرضی کی فائل تک بھی ابھی نہیں کھولی۔انہوں نے جموں وکشمیر کی سیاسی پارٹیوں کو مشورہ دیا کہ وہ 370ک ی واپسی کو لے کر لوگوں کو گمراہ نہ کریں کیونکہ کھوکھلے نعروں سے پہلے ہی کشمیریوں نے بہت کچھ کھو دیا اور یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ یہاں کے نوجوانوں نے بندوق ا±ٹھائی جس وجہ سے آج تک ایک لاکھ سے زائد نوجوان مارے گئے جبکہ پچاس ہزار بیٹیاں بیوہ ہو گئیں۔














