رہبر تعلیم کے تین برطرف ملازمین کی نوکری فوری بحال کرنے کا حکم جاری
عدالت عالیہ نے رہبر تعلیم کے تین اساتذہ کی بحالی اور انہیں تمام مراعات فراہم کرنے کا محکمہ تعلیم کو حکم دیتے ہوئے کہا کہ دس سال تک خدمات حاصل کرکے کسی کو اس طرح سے برطرف نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ عدالت نے محکمہ کے اس فیصلے کی سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ یہ سراسر متکبرانہ اور بیورو کریسی ہے ۔ سی این آئی کے مطابق رہبر تعلیم کے تینوں اساتذہ کی خدمات بحال کرکے تمام مراعات دینے کے احکامات۔ جج نے کہا، محکمہ تعلیم سرکاری محکمہ ہے، نجی کمپنی نہیں۔جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے تین نوجوانوں کو ریگولرائز کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں، رہبر تعلیم اسکیم کے تحت تعینات تین نوجوانوں کی خدمات کو ختم کرنے کے حکومتی حکم کو ایک طرف رکھ دیا ہے۔ عدالت نے تہلکہ خیز ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دس سال سروس کرنے کے بعد اس طرح کی برطرفی کا حکم نامہ جاری کرنا متکبر بیوروکریسی کی زندہ مثال کے سوا کچھ نہیں۔درخواست گزار جاوید احمد بٹ کو کلگام مڈل اسکول لنگھول، سجاد حسین شاہ مڈل اسکول ناگبل اننت ناگ اور شبیر احمد ملاکو کو رہبر تعلیم اسکیم کے تحت یو پی ایس اڈور شوپیاں میں بطور استاد مقرر کیا گیا تھا۔ سکیم کے تحت انہیں پانچ سال کی سروس مکمل کرنے کے بعد ریگولرائز کیا جانا تھا تاہم تینوں کا کیس دس سال سے زائد سروس کے بعد ریگولرائزیشن کے لیے محکمہ تعلیم کو بھجوا دیا گیا۔حکومت نے 21 فروری 2022 کو جاری کردہ آرڈر کے تحت تینوں کو ریگولرائزیشن کے لیے اہل نہیں پایا۔ ایک حکم نامہ جاری کرتے ہوئے تینوں کی خدمات یہ کہہ کر ختم کر دی گئیں کہ بھرتی کے لیے اسامیوں کا اشتہار جاری کرتے وقت ان کی عمر 18 سال نہیں تھی۔حکم پر سوال اٹھاتے ہوئے جسٹس سنجیو کمار نے کہا کہ جو ملازمین دس سال سے زائد عرصے تک تسلی بخش خدمات سرانجام دیتے رہے ان کی تقرری بھی حکومت نے ایک عمل کے ذریعے کی تھی۔ جب ریگولرائزیشن کا وقت آیا تو ایک دہائی کے بعد انہیں نااہل قرار دے کر نوکری سے نکال دیا گیا۔ فاضل جج نے کہا کہ سرکاری محکمہ تعلیم نجی کمپنی نہیں ہے۔ وہ اپنے ملازمین کی فلاح و بہبود کا بھی ذمہ دار ہے۔ایک دہائی بعد تین کارکنوں کو نوکری سے نکال دیا گیا، جب کہ اب وہ کسی اور کام کے لیے عمر کی حد عبور کر چکے ہیں۔ اس طرح کا حکم صرف بیوروکریسی کے تکبر کا مظاہرہ ہے، جبکہ CSR کا آرٹیکل 37 متعلقہ اتھارٹی کو ایسے معاملات میں ملازم دوست فیصلے کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ہائی کورٹ نے محکمہ تعلیم کو دو ماہ کا وقت دیتے ہوئے تینوں ملازمین کو ریگولر کرنے کا حکم دے دیا۔ حکم نامے میں کہا گیا کہ پانچ سال کی سروس مکمل ہونے پر انہیں مستقل کرتے ہوئے تمام متعلقہ مراعات بھی دی جائیں۔ انہیں اس وقت تک باقاعدہ خدمات فراہم کرنے کی اجازت دی جائے جب تک یہ فراہم نہیں کیا جاتا۔رہبر تعلیم اسکیم کا آغاز 2000 میں کیا گیا تھا۔ اس سکیم کے تحت دور دراز علاقوں میں اساتذہ کی تعیناتی کا ہدف تھا، جس کے تحت پانچ سال کے لیے عارضی تقرریاں کی گئیں۔ ابتدائی سطح پر تعینات ہونے والے استاد کو 1500 روپے ماہانہ اعزازیہ دیا جاتا تھا جس کے بعد اسے بڑھا کر 3000 روپے ماہانہ کر دیا گیا۔ تسلی بخش سروس کے پانچ سال مکمل کرنے کے بعد ریگولرائزیشن کا انتظام کیا گیا تھا۔













