حکومت نے بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باوجود سبسڈی جاری رکھی
سری نگر/24جولائی2024ئ
جموںوکشمیر پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ ( پی ڈِی ڈِی ) کے ترجمان نے بجلی صارفین کو ایک بڑی راحت دیتے ہوئے آج اعلان کیا کہ حکومت جموں و کشمیر نے بجلی کے بِلوں پر سبسڈی کی شکل میں اپنا تعاون جاری رکھتے ہوئے موجودہ مالی برس 2024-25 ءمیں بجلی کے نرخوں میں کسی بھی اضافے کو برداشت کرنے کا اہم فیصلہ کیا ہے۔
حکومت کا یہ فیصلہ بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمت، مہنگائی اور دیگر عوامل کو پورا کرنے اور ریونیو گیپ کو پورا کرنے کے لئے ڈِسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکامز) یعنی صوبہ جموں کے لئے جے پی ڈِی سی ایل اور صوبہ کشمیرکے لئے کے پی ڈِی سی ایل کی پیش گوئی کے مطابق ٹیرف کی ضروریات میں کسی بھی اضافے کو مو¿ثر طریقے سے پورا کرے گا۔
جموں و کشمیر پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ (پی ڈی ڈی) کے ترجمان نے اِس فیصلے کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ ڈسکامز کے اخراجات کا ایک بڑا حصہ بجلی کی خریداری کی لاگت پر مشتمل ہے ، جو کوئلے کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے دن بدن بڑھ رہا ہے۔ لہٰذا ،بجلی کی خریداری کی لاگت میں اس طرح کے اضافے سے بجلی کے نرخوں میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ اِس کے علاوہ ڈسکام دوسرے بڑے اَخراجات بھی جیسے کہ اِس کے بڑھتے ہوئے بنیادی ڈھانچے کے لئے او اینڈ ایم اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔
اُنہوں نے مزید بتایا کہ اگرچہ مالی برس 2024-25 ءکے لئے ٹیرف میں اضافے کی تجویز ڈسکام کی جانب سے منظوری کے لئے جوائنٹ الیکٹرسٹی ریگولیٹری کمیشن (جے اِی آر سی) کو پیش کی گئی ہے ، لیکن حکومت کے فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ صارفین کے لئے ٹیرف میں مو¿ثر طور پر کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔ اِس حساب سے تخمینہ نقصان حکومت برداشت کر رہی ہے۔













