تعاون میں توسیع کیلئے دونوں ممالک کے درمیان عدالتی معاہدہ
یروشلم: ۷۲ جولائی (ایجنسیز) مراکش اور اسرائیل نے 2020 میں تعلقات کی بحالی کے بعد اس میں وسعت کے لیے منگل کو اسرائیلی وزیر انصاف گیڈون سار کے دورے کے دوران تعاون بڑھانے کے لیے قانونی روابط سمیت معاہدے کی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں۔ انہوں نے رباط میں اپنے مراکشی ہم منصب عبداللطیف اوہبی کے ساتھ ایک عدالتی معاہدے پر دستخط کیے۔ ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک مہارت کا اشتراک کریں گے اور ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے اپنے عدالتی نظام کو جدید بنائیں گے جبکہ منظم جرائم، دہشت گردی اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف جنگ میں تعاون کریں گے۔ منگل کے روز بھی اسرائیل کے علاقائی تعاون کے وزیر اساوی فریج نے رباط میں دونوں ممالک کے نوجوانوں کے لیے ثقافتی تبادلے کے پروگرام پر بات چیت کی۔ مراکش نے دوسری فلسطینی انتفادہ کے شروع ہونے کے بعد 2000 میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات منقطع کر لیے تھے لیکن دو دہائیوں بعد ایک معاہدے کے تحت تعلقات کو دوبارہ قائم کیا جس میں واشنگٹن نے متنازع مغربی صحارا پر رباط کی خودمختاری کو تسلیم کیا۔اس کے بعد سے مراکش اور اسرائیلی حکام ایک دوسرے سے مسلسل رابطے میں ہیں جہاں دونوں مللکوں کے عہدیدار ایک دوسرے کے ممالک کا دورہ کر رہے ہیں اور دفاع اور سلامتی سے لے کر معیشت، ثقافت اور کھیلوں کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔اسرائیلی فوج کے سربراہ ایویو کوہاوی نے گزشتہ ہفتے مراکش کا دورہ کیا تھا جس میں یہودی ریاست اور شمالی افریقی ملک کے درمیان اسٹریٹیجک اور فوجی اتحاد کو مضبوط کیا گیا۔














