متعدد مقامات پر کارروائیاں، براہِ راست فائرنگ کا استعمال،4 افراد گرفتار
یروشلم: ۵۱ جولائی (ایجنسیز) اسرائیلی فورسز نے مقبوضہ مغربی کنارے میں رات گئے چھاپے کے دوران دو فلسطینیوں کو قتل کردیا۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے نابلس سمیت متعدد مقامات پر کارروائیاں کیں اور براہِ راست فائرنگ کا استعمال کیا جبکہ دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے شبہ میں 4 افراد کو گرفتار بھی کیا۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ متعدد دہشت گردوںکے خلاف ہٹ کی نشاندہی کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ اس کی طرف سے کوئی زخمی نہیں ہوا۔ فلسطینی وزارت صحت نے مرنےوالوں کی شناخت 25 سالہ محمد عزیزی کے نام سے کی ہے، جو سینے میں گولی لگنے سے ہلاک ہوئے، اور 28 سالہ عبدالرحمٰن جمال سلیمان سوب نامی نوجوان کے سر میں گولی لگی تھی۔ فلسطینی ہلال احمر نے اطلاع دی ہے کہ نابلس میں 19 زخمیوں کا علاج کیا جا رہا ہے، جن میں 10 افراد براہِ راست فائرنگ کا نشانہ بنے۔ اسرائیل کی سیکیورٹی فورسز نے حالیہ مہینوں میں اسرائیل میں ہونےوالے حملوں کے بعد مغربی کنارے میں تقریباً روزانہ کی کارروائیوں کا آغاز کیا ہے, صیہونی ریاست 1967 سے مغربی کنارے پر قابض ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم یائر لیپڈ نے کہا کہ رات کے چھاپے میں جن لوگوں کو نشانہ بنایا گیا وہ اسرائیلیوں پر حال ہی میں ہونے والے فائرنگ کے حملوں سے منسلک تھے، اور انہوں نے ‘مو¿ثر اور کامیاب آپریشن’ کے لیے سیکیورٹی فورسز کی تعریف کی۔ اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ فائرنگ کے تبادلے میں متعدد دہشت گرد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے اور کافی مقدار میں اسلحہ ضبط کر لیا گیا۔ دوسری جانب فلسطینی صدر محمود عباس کے ترجمان نبیل ابو رودینا نے اس حملے کو اسرائیلی جرم قرار دیا۔ انہوں نے وائس آف فلسطین ریڈیو کو ایک بیان میں مزید کہا کہ ‘جب تک قبضہ ختم نہیں ہو جاتا اور منصفانہ امن قائم نہیں ہو جاتا اس وقت تک پورا خطہ تشدد کے دائرے میں رہے گا’۔ اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ نابلس میں اس کی کارروائی پولیس کے ساتھ مل کر کی گئی، اور اس نے متعدد دیگر مقامات پر بھی کارروائیاں شروع کیں، جن میں مغیر قصبہ، ایدہ کیمپ اور شہر جنین شہر شامل ہیں۔














