روس کے ساتھ تعاون اور ملک سے غداری کے الزامات
کیف: ۸۱ جولائی (ایجنسیز) یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ’روس کے ساتھ تعاون اور غداری‘ کے الزامات پر سکیورٹی سروسز کے سربراہ اور سٹیٹ پراسیکیوٹر کو برطرف کر دیا ہے۔ زیلنکسی کا کہنا ہے کہ ایس بی یو سکیورٹی سروس اور پراسیکیوٹر آفس کے 60 سے زائد اہلکار روس کے قبضے میں چلی جانے والی ریاستوں میں یوکرین کے خلاف کام کر رہے تھے اور ان کے خلاف مقدمات بھی درج کر لیے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سکیورٹی سروس کے سربراہ آئیوان بیکانوف اور پراسیکیوٹر جنرل اریانا وینیڈیکوٹا کو برطرف کیا گیا ہے، جنہوں نے روس پر جنگی جرائم کے مقدمات درج کرانے کی بھی کوشش کی تھی۔ یوکرین کے صدر کا کہنا ہے ’قومی سلامتی کے خلاف ایسے جرائم نے متعلقہ قیادت کیلئے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جن میں سے ہر ایک کو مناسب جواب ملے گا۔‘ اتوار کو رات گئے قوم سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ غداری کے شبہے میں گرفتار ہونے والے ایس بی یو کے سربراہ کریمیا کے لیے کام کر رہے تھے، اس جزیرہ نما ٹکڑے کو 2014 میں روس نے اپنے ساتھ ملا لیا تھا جبکہ کیئف اور مغربی دنیا اس کو یوکرین کا حصہ سمجھتے ہیں۔ یوکرینی صدر نے یہ انکشاف بھی کیا کہ انہوں نے اعلٰی سکیورٹی اہلکار کو اسی وقت برخاست کر دیا تھا جب روس نے حملہ کیا تاہم اس کو منظرعام پر اب لایا گیا ہے۔ ’ان کے خلاف کافی غداری کے کافی ثبوت اکٹھے کیے جا چکے ہیں، جو کہ دستاویزی شکل میں محفوظ ہیں۔‘ دوسری جانب تمام تر کوششوں کے باوجود ابھی تک کیئف پر قبضہ کرنے میں ناکامی پر روس نے جنوبی مشرقی حصے میں بمباری کا سلسلہ بڑھا دیا ہے۔ یوکرینی صدر کا کہنا ہے کہ روس نے ابھی تک تین ہزار سے زائد کروز میزائل استعمال کیے ہیں جبکہ استعمال ہونے والے دوسرے اسلحے اور حملوں کی گنتی کرنا مشکل ہے۔














