ہم خواتین کی تعلیم کےخلاف نہیں، ہائی سکولوں میں طریقہ کاربنانے پر کام جاری : وزیر داخلہ
کابل: ۷۱ مئی (ایجنسیز) افغانستان میں طالبان کے وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ لڑکیوں کے سیکنڈری سکول کھولنے کی ’بہت اچھی خبر‘ جلد آئے گی۔ نشریاتی ادارے سی این این کو ایک انٹرویو میں افغان وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے بتایا کہ ’اس معاملے پر بہت جلد آپ بہت اچھی خبر سنیں گے۔‘ رواں سال مارچ کے اختتام پر طالبان نے لڑکیوں کے ہائی سکول اور کالجز کھولنے کے چند گھنٹے بعد ہی بند کر دیے تھے۔ طالبان نے گزشتہ برس اگست میں امریکی افواج کے انخلا کے بعد کابل کا کنٹرول حاصل کیا تھا۔ ہائی سکول اور کالجز کھولنے کے بعد غیرمتوقع طور پر بند کرنے کے طالبان کے سپریم لیڈر ہبت اللہ اخوانزادہ کے حکم پر افغان شہریوں کے ساتھ عالمی برادری نے بھی غم و غصے کا اظہار کیا تھا۔ سراج الدین حقانی نے سی این این کو بتایا کہ ’میں کچھ وضاحت کرنا چاہوں گا۔ ہم میں ایسا کوئی نہیں جو خواتین کی تعلیم کے خلاف ہو۔‘ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں لڑکیاں پرائمری تعلیم حاصل کرنے کیلئے سکول جا رہی ہیں۔ ’ہائی سکولز میں لڑکیوں کی تعلیم جاری رکھنے کیلئے میکنزم بنانے پر کام جاری ہے۔‘ کسی بھی ٹی وی چینل کو اپنے پہلے انٹرویو میں سراج الدین حقانی نے کہا کہ لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے درس گاہوں میں لباس افغان ثقافت اور ’اسلامی قوانین اور اصولوں‘ کے مطابق ہونا چاہیے۔ اقتدار پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد طالبان نے خواتین سے کہا تھا کہ وہ حجاب لیں جس میں سر کو ڈھانپا جاتا ہے جبکہ چہرے کو کھلا رکھا جا سکتا ہے۔ تاہم رواں ماہ مئی کے آغاز پر طالبان کی جانب سے خواتین کو مکمل برقع اوڑھنے کی ہدایت کی گئی۔













