وادی کشمیر کے شیعہ آبادی والے علاقوں کے لوگوں میں شدید غم وغصہ
سرینگر/لبنان کی مزاحمتی عسکری جماعت حزب اللہ کے سربراہ اسرائیلی حملے میں اپنی دختر کے ہمراہ جاں بحق ہوئے ہیں ۔ اسرائیل کی جانب سے لبان میں کئی شہری علاقوں اور ہسپتال پر حملوں میں گزشتہ چند دنوں میں ہی 700سے زائد افراد از جان ہوئے ہیں ۔ ادھر حزب اللہ نے حسن نصر اللہ کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے ۔ دریں اثناءحسن نصر اللہ کی ہلاکت کی خبریں پھیلنے کے بعد وادی کشمیر کے شیعہ آبادی والے علاقوں کے لوگوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور کئی جگہوں پر اسرائیل کے خلاف شدید غم و غصے کااظہار کیا گیا ۔ اطلاعات کے مطابق حزب اللہ نے تصدیق کی ہے کہ ان کے سربراہ حسن نصراللہ اسرائیلی حملے میں ”شہید “ہوگئے ہیں۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق، انہیں گزشتہ روز کے حملے میں نشانہ بنایا گیا۔حزب اللہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ "اسرائیل کے خلاف حزب اللہ کی جنگ جاری رہے گی۔” اس حملے میں حزب اللہ کے سینئر رہنما علی کرکی اور حسن نصراللہ کی بیٹی زینب بھی شہید ہوئیںہیں۔ علاوہ ازیں، شام لبنان میں القدس فورس کے کمانڈر عباس نیلفوروشن بھی اس حملے کے نتیجے میں جاں بحق ہوئے۔گزشتہ روز اسرائیل نے بیروت میں بنکر بسٹر میزائل حملہ کیا۔ حسن نصراللہ بیروت میں 6 عمارتوں کے نیچے بنکر میں موجود تھے، جس پر حزب اللہ کا ہیڈکوارٹر قائم تھا۔ یہ ہیڈکوارٹر رہائشی عمارتوں کے نیچے واقع تھا۔جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 11 طبی عملے کے ارکان بھی ازجان ہوئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، اسرائیلی فوج نے شہری دفاع کے مراکز اور ایک طبی کلینک پر حملے کیے، جس میں ڈاکٹر، نرسیں، اور دیگر طبی عملے کے ارکان شامل تھے۔ ان حملوں میں 10 افراد زخمی بھی ہوئے۔یہ حملے اسرائیلی سرحد کے قریب لبنان کے طیبہ اور دیرسریانی علاقوں میں کیے گئے، جس کے نتیجے میں پیر سے اب تک لبنان میں 700 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیل نے بیروت میں 10 فضائی حملے کیے تھے، جن کے نتیجے میں 6 بڑی عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔ادھر حزب اللہ نے اپنی عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھے گی، اور یہ تازہ حملے علاقے میں جاری عدم استحکام کی ایک نئی مثال ہیں۔ادھر آئی ڈی ایف نے بیان جاری کر کہا کہ نصراللہ کے ساتھ ساتھ حزب اللہ کے دیگر کمانڈر بھی مارے گئے، نصراللہ کو تب نشانہ بنایا گیا جب وہ بیروت کے داہیہ میں حزب اللہ ہیڈکوارٹر میں موجود تھا۔اسرائیل ڈیفنس فورس (آئی ڈی ایف) نے جمعہ کی دیر شب بیروت واقع حزب اللہ ہیڈکوارٹر پر شدید حملہ کیا تھا جس میں حزب اللہ کے کئی سرکردہ لیڈران کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔ اب ا?ئی ڈی ایف نے دعویٰ کیا ہے کہ اس حملہ میں حزب اللہ چیف حسن نصراللہ کی موت واقع ہو گئی ہے۔ اسرائیل نے رات بھر بنکر بسٹر بم سے لبنان میں تباہی مچائی۔دی گئی جانکاری کے مطابق حزب اللہ کے ہیڈکوارٹر پر 60 بنکر راکیٹ داغے گئے۔ اس دوران اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے کئی دیگر ٹھکانوں کو بھی تباہ کر دیا۔ اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس شدید حملے میں حزب اللہ کا ہیڈکوارٹر پوری طرح سے تباہ ہو گیا۔ حزب اللہ ہیڈکوارٹر میں موجود کوئی بھی شخص نہیں بچا۔ جو بھی اندر تھا سبھی مارے گئے۔














